ابنِ صفی کا سائنسی تخیل‎

ibne-safiالیکٹروگس
یہ ایجاد ابنِ صفی کی ’’عمران سیریز‘‘ کے ان قسط وار ناولوں میں پیش کی گئی جن میں ’’تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا‘‘ (ٹی تھری بی) پہلے پہل علی عمران کے مدمقابل آئی تھی۔ الیکٹروگس ایک طرح کی لیزر گن تھی جو ابن صفی نے آج سے ساٹھ سال پہلے ہی اپنے ناولوں میں ایجاد کرلی تھی۔ اگرچہ لیزر کا تصور مغربی مصنّفین کے یہاں بھی موجود تھا لیکن ابن صفی کی یہ تخیلاتی لیزر گن، جو دیکھنے میں پستول جیسی ہوتی تھی، ایٹمی بیٹری کی طاقت سے کام کرتی تھی۔ اس زمانے میں لیزر گن کا تصور سائنس فکشن ناولوں میں ضرور موجود تھا لیکن ایٹمی طاقت سے چلنے والی بیٹری کا تخیل اس کے بہت بعد سامنے آیا اور جس پر بیسویں صدی کے اختتام سے تحقیقی کام کا آغاز ہوا۔
کپل ٹیکاز
انہی ناولوں میں ایسے آلات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جو دماغی لہروں کی مدد سے ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے اور دوسروں کی بات سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں کپل ٹیکاز ایک دھوکا ثابت ہوتے ہیں لیکن باہمی رابطے کے لئے دماغی لہروں کے استعمال کا تصور مکمل طور پر سائنسی ہے، اور ہم اس کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ اس طریقے پر کام کا آغاز ابنِ صفی کے بہت بعد میں ہوا۔
فے گراز
یہ ایک طرح کی اُڑن طشتری جیسی چیز تھی جس کا تذکرہ ابن صفی نے اپنے ناولوں میں کیا تھا۔ یہ زمین سے کسی طیارے کی طرح اُڑان بھرتی اور خلاء کے کنارے تک پہنچ جایا کرتی تھی۔ اس کی شکل آج کل کے ’’ورجن اٹلانٹک‘‘ نامی جہاز سے مشابہ بھی ہے جس پر انسانوں کے لئے خلائی سیر و سیاحت ممکن بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اُڑن طشتری بہت پرانے زمانے سے ناولوں میں رائج ہے۔
فولادمی
ان کے ناول ’’طوفان کا اغوا‘‘ (1957ء) میں ’’فولادمی‘‘ نامی ایک روبوٹ دکھایا گیا جو ٹریفک کنٹرول کرتا تھا اور سماجی فلاح و بہبود کے کام انجام دیتا تھا۔ اس زمانے میں اگرچہ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا تصور موجود تھا لیکن یہ باتیں صرف مغرب تک محدود تھیں اور اہلِ مشرق ان سے بہت کم واقف تھے۔ لیکن اُس ابتدائی زمانے ہی میں ابن صفی نے جس طرح ان باتوں کو سمجھا اور ایک امکان کی صورت اپنے ناول میں پیش کیا، وہ بجا طور پر قابل تحسین ہے۔
تخیلاتی ایجادات کے علاوہ ابن صفی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں دنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں کی سیر کروائی کہ جہاں انہوں نے کبھی خود قدم نہ رکھا تھا۔ اس کے باوجود، جب بعد ازاں ابن صفی کے قارئین نے وہ جگہیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو منظر ویسا ہی پایا جیسا ابن صفی نے اپنے ناولوں میں بیان کیا تھا۔ یہ ان کے تخیل کی پرواز کا کرشمہ تھا، جو آج کسی عجوبے سے کم نہیں۔ مثلاً ’’ایڈلاوا‘‘ نامی ناول میں اٹلی کی جھیل ’’کومو‘‘ (Como) کا تذکرہ ہے، جو حقیقتاً ویسی ہی ہے جیسی ان کے ناول میں بتایا گیا۔
ابن صفی کے تخیل نے ترقی کا سفرعشروں پہلے طے کر لیا تھا جن پر عملدرآمد آج کی دنیا میں ممکن ہوا۔ اگر آج کے نوجوان بھی ابن صفی کی تحریروں کا مطالعہ کریں تو یقنناً تخیل کی اس صلاحیت کو سراہے بغیر نہ رہ سکیں گے

Related posts