اب کٹھ پتلیوں کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا: وزیر اعظم نواز شریف

اسلام آباد(نیوزلائن) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مخصوص ایجنڈا چلانے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں موڑنے دیں گے، وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا، سب کچھ قوم کے سامنے رکھیں گے، اب کٹھ پتلیوں کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد مزید کہا کہ ایک ایک پائی کا حساب دے دیا، ذاتی کاروبار کو اچھالا اور الجھایا جا رہا ہے، جو کچھ ہو رہا ہے، اُس کا کرپشن کیس سے تعلق نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سب کچھ قوم کے سامنے رکھیں گے، اگلے سال عوام کی جے آئی ٹی میں سرخرو ہونگے۔ میڈیا سے گفتگو میں بولے کہ میرا اور میرے خاندان کا بے رحمانہ احتساب کیا گیا، منیری تین نسلوں کا احتساب کیا جارہا ہے، اپنے اثاثوں کی تفصیلات ایک بار پھر جے آئی ٹی میں پیش کردیں، ہم نے اپنی حکومت میں خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا، مجھ پر کرپشن یا خورد برد کا کوئی الزام نہیں، یہ ہمارے خاندان کے نجی کاروباری معاملات کو الجھایا جارہا ہے، سرکاری خزانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں، عوام کے فیصلوں کو روند کر مخصوص ایجنڈے پر کام بند نہ ہوا تو آئین و جمہوریت ہی نہیں ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، میرا پورا خاندان انشاء اللہ اس جے آئی ٹی اور اس عدالت میں بھی سرخرو ہوگا، بلکہ اور اگلے برس (2018ء الیکشن) بیٹھنے والی جے آئی ٹی اور عدالت میں بھی 2013ء سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ ہمارے حق میں فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اثاثوں اور وسائل کی تمام دستاویزات پہلے ہی متعلقہ اداروں بشمول سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے، آج ایک بار پھر جے آئی ٹی کو تفصیلات پیش کردیں، آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے آج کا دن سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، میں نے اور میرے پورے خاندان نے خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا۔ وہ بولے کہ تقریباً سوا سال پہلے پاناما معاملہ سامنے آنے پر سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا، اس وقت میری پیشکش کو سازشوں کی نذر نہ کیا جاتا تو آج یہ معاملہ حل ہوچکا ہوتا، میں نے ایک ایک پائی کا حساب دے دیا، میرا احتساب 1936ء (میری پیدائش سے قبل) سے شروع ہوا جو آئندہ نسلوں تک پھیلا ہوا ہے، ملک میں ہے کوئی ایسا خاندان جس کی تین نسلوں کا ایسا بے رحمانہ احتساب ہوا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا احتساب ہمارے سیاسی مخالفین پیپلزپارٹی کے ہر دور میں بھی ہوا، 1972ء سے ہمارا احتساب شروع ہوا جب ہمارے تمام اثاثے قومیائے گئے، ہمارا احتساب مشرف کی آمریت نے بھی کیا اور اس بے دردی سے کیا کہ ہمارے گھروں پر بھی قبضہ جمالیا گیا، بار بار لگنے والے الزامات میں ذرہ برابر سچائی ہوتی تو مشرف کو مجھے سزا دلوانے کیلئے ہائی جیکنگ کے جھوٹے کیس کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ آج ہماری حکومت ہے، پاکستان کے عوام نے مجھے تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھایا، ہم نے اپنی حکومت میں خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا، نہ کبھی پہلے ہمارے دامن پر ذرا برابر کرپشن کا داغ پایا گیا اور انشاء اللہ تعالیٰ نہ اب ایسا ہوگا، ہمارے مخالفین جتنے جی چاہیں الزامات لگالیں، جتنے جی چاہیں جتن کرلیں، جتنی جی چاہئے سازشیں کرلیں، وہ انشاء اللہ ناکام اور نامراد رہیں گے، میں پنجاب کا وزیراعلیٰ رہا، تیسری بار وزیراعظم بنا ہوں، اربوں کھربوں کے منصوبے میری منظوری سے ہوئے ہیں، صرف میرے موجود دور میں پاکستان میں الحمدللہ اتنی سرمایہ کاری ہوئی جتنی 65 سالوں میں نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے مخالفین تمام تر کوششوں کے باوجود مجھ پر کسی کرپشن، بدعنوانی، کک بیک، کمیشن کا کوئی ایک معاملہ الزام کی حد تک بھی سامنے نہیں لاسکے، پاکستان کے عوام پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے، اس کا سرکاری خزانے کی خورد برد یا کرپشن کے کسی الزام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے، مجھ پر کرپشن یا خورد برد کا کوئی الزام نہیں، یہ ہمارے خاندان کے نجی کاروباری معاملات کو الجھایا جارہا ہے، سرکاری خزانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میاں نواز شریف بولے کہ چند دن میں جے آئی ٹی رپورٹ اور عدالت کا فیصلہ سامنے آجائے گا، ایک بڑی عدالت اور جے آئی ٹی لگنے والی ہے، وہ ہے 20 کروڑ عوام کی جے آئی ٹی، جس کے سامنے سب کو پیش ہونا ہوگا، میرا پورا خاندان انشاء اللہ اس جے آئی ٹی اور اس عدالت میں بھی سرخرو ہوں گے اور اگلے برس بیٹھنے والی جے آئی ٹی اور عدالت میں بھی 2013ء سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ ہمارے حق میں فیصلہ کرے گی۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت آگیا ہے کہ حق اور سچ کا عزم حقیقی معنوں میں بلند ہوں، ہم سب آئین و قانون کے سامنے جوابدہ ہیں، آئین عوام کی حکمرانی کا نام ہے، جمہوریت عوام کے فیصلوں کے احترام کا نام ہے، عوام کے فیصلوں کو روند کر مخصوص ایجنڈے پر کام بند نہ ہوا تو آئین و جمہوریت ہی نہیں ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، میں واضح کردوں کہ اب ہم تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف موڑنے نہیں دیں گے، کہنے کو بہت کچھ ہے تاہم آنے والے دنوں میں میڈیا اور قوم سے کہوں گا۔

Related posts