اردو زبان ترقی پانے کے بجائے رو بہ زوال ہے۔

زبانِ اردو کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ باقی دنیا کے برعکس ہماری اپنی ہی قوم اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ پاکستان کی تخلیق سے لے کر آج تک اردو زبان ترقی پانے کے بجائے رو بہ زوال ہے۔ ہماری اپنی ہی قوم اردو کو وہ عزت اور وقار دینے کو تیار نہیں جس کی بحیثیت قومی زبان یہ حقدار ہے۔پاکستان نامی جس ملک کی یہ قومی زبان ہے، وہاں حالات یہ ہیں کہ وہ انسان زیادہ قابل اور پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے جسے فر فر انگریزی بولنے اور لکھنے پر عبور حاصل ہے، لیکن ایک اچھی اردو لکھنے اور بولنے والے کو قابل نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بھی جگہ آپ کی کامیابی کی ضمانت یہ ہے کہ آپ انگریزی زبان پر کتنا عبور رکھتے ہیں۔سرکاری ہو یا نجی، ہر شعبے کی ہر سطح پر انگریزی کے بغیر کام نہیں چلتا۔ تعلیمی اداروں میں بھی انگریزی میڈیم کا تڑکا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ مانا کہ انگریزی زبان کی اہمیت بین الاقوامی ہے، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنی قومی زبان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جائے؟ جب کوئی قوم خود ہی اپنی زبان کو وقعت نہیں دے گی تو اقوامِ عالم میں اس کی عزت و تکریم کیونکر ہو گی؟میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک ایسی چیز جس کو آپ نے اپنی قومی شناخت کا درجہ دے رکھا ہے، کہ جناب اردو ہماری قومی زبان ہے، تو پھر کیوں اس کو اپنانے میں اس قدر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں؟ دنیا کی ہر قوم اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ہزار جتن کرتی ہے۔ اپنی زبان کے فروغ اور ترویج کے لیے کام کرتی ہے۔ اپنی منفرد پہچان پر فخر کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم ہر اس چیز کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے جس کے ساتھ ”قومی“ کا سابقہ لگ جائے۔ ہمارا تو وہ حال ہے کہ ”کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔“قومی زبان کسی بھی قوم اور ملک کے تشخص کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ اور یہاں اس بنیاد کی مضبوطی کی طرف دھیان دینے کے بجائے یہ قوم خود ہی اس بنیاد کو کھوکھلا کرنے پر تلی ہے۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک کی نقالی میں ہماری اپنی پہچان اور تشخص کس حد تک مسخ ہو رہا ہے اس بات کا احساس سوائے چند ایک کے شاید ہی کسی کو ہو۔<دنیا میں اگر اردو زبان کا کوئی مقام باقی رہ گیا ہے تو وہ میر تقی میر، مرزا غالب، داغ دہلوی، شاعرِ مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز، اور ایسے ہی لاتعداد شعراء کی کوششوں کا ثمر ہے، جن کے کلام نے ایک عالم کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ پڑوسی ممالک ہندوستان اور ایران میں کلامِ غالب باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے، اقبال کے کلام پر پی ایچ ڈیز کی جاتی ہیں، فیض کے کلام کا روس کی تمام زبانوں میں ترجمہ کر دیا جاتا ہے، لیکن وہ قوم جس کی اپنی زبان ہی اردو ہے، اس کے بچے ان شعراء کے ایک شعر کو بھی خود سے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔رہی سہی کسر بین الاقوامی ثقافتی یلغار نے پوری کر دی ہے۔ اب ایسے میں کوئی زبان اپنے تشخص اور انفرادیت کو کیسے برقرار رکھ سکتی ہے جب اس کی اپنی ہی قوم کے لوگ اسے رد کرنے کو تیار بیٹھے ہوں۔ ہمارا یہ رویہ اس بات کا واضح عکاس ہے کہ ہم احساسِ کمتری کا شکار ہیں اور شکست خوردہ قوم بننے کی طرف مائل ہیں۔میڈیا جو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے وہ اس اہم معاشرتی مسئلے کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا، کیونکہ اسے سیاسی مسائل سے ہی فرصت نہیں ہے۔ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی ڈرامے دیکھ کر اور خبریں سن کر لوگ اپنا اردو زبان کا تلفظ درست کیا کرتے تھے، لیکن اب حال یہ ہے کہ یہی ذریعہ ابلاغ بڑے پیمانے پر ہماری قومی زبان کے بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔ ماضی میں کسی بھی ریڈیو یا ٹی وی چینل میں خاص طور پر ماہرِ لسانیات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا جو پروگرامز کے اسکرپٹ میں زبان کے صحیح استعمال کو یقینی بنا سکے، لیکن اب حالات کیا ہیں، سب اس سے بخوبی واقف ہیں، اور اس لاپرواہی کا اثر لامحالہ ہماری روزمرہ بول چال میں نظر آتا ہے۔میری استدعا صرف اتنی ہے کہ اردو زبان کی ترویج اور فروغ کے لیے کام کیا جائے یا نہیں، لیکن کم از کم اسے اس کی اصل حالت میں برقرار تو رہنے دیا جائے۔ انگریزی اور ہندی کے پیوند لگا لگا کر اس کی انفرادیت کو خراب نہ کیا جائے۔ آج حال یہ ہے کہ اکثریت اردو کا ایک جملہ بھی انگریزی کا پیوند لگائے بغیر ادا نہیں کر سکتی، جس کی وجہ سے کئی الفاظ و محاورے جو اردو میں موجود ہیں، وہ کم استعمال کی وجہ سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔آخر اس سب کا انجام کیا ہوگا؟
ایسی بے وقعتی کب تک اور کہاں تک قابلِ برداشت ہے؟
اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اپنے قومی تشخص کی علامت ایک زبان کو رد کر کے کوئی قوم کب تک بین الاقوامی طور پر اپنا وقار قائم رکھ سکتی ہے؟
ہ میری کہنے کی نہیں بلکہ سب کے سوچنے کی بات ہے

Related posts