اسحاق ڈار کے خلاف ضمنی ریفرنس :نیشنل بنک کے صدر بھی ملزم قرار


اسلام آباد(نیوزلائن)احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف دائر ایک ضمنی ریفرنس میں نیشنل بنک آف پاکستان(این بی پی) کے صدر کو طلب کرلیا ہے،یہ ریفرنس قومی احتساب بیورو نے دائر کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل بنک کے صدر سعید احمد کو وزیر کے علاوہ اس ضمنی ریفرنس میں ایک ملزم نامزد کیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر تین ملزمان نامزد کئے گئے ہیں،یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب نیب نے لاکھوں کروڑوں ڈالرز کی ٹرانزیکشن کی نشاندہی کی جو ان بنک اکاؤنٹس کے ذریعے دیگر ممالک کو ارسال کی گئیں جو وہ آپریٹ کررہا تھا۔اس کے علاوہ ضمنی ریفرنس میں دو ہجویری مضاربہ ڈائریکٹرز کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں نعیم محمود اور شیر منصور رضا شامل ہیں اور جن کو ملزمان ٹھہرایا گیا ہے۔نیب نے ضمنی ریفرنس میں استغاثہ گواہان کا بھی ذکر کیا ہے جس کو اس وقت دائر کیا گیا ہے جب کہ احتساب عدالت نے پہلے ہی831.6 ملین اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار کے خلاف30میں سے29 گواہان کی گواہی لے لی ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ضمنی ریفرنس قبول کرلیا ہے اور نیشنل بنک کے صدر اور دیگر ملزمان کو آج28 فروری کو طلب کرلیا ہے اور اسی دن عدالت نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی گواہی ریکارڈ کرے گی جو استغاثہ گواہان کا آخری گواہ ہے۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نے پہلے ہی اسحاق ڈار کو مفرور قرار دے رکھا ہے اور بارہا نوٹسز کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوئے اور ان کے اثاثہ جات منجمد ہیں۔

Related posts