اعلیٰ نسل کے دانشور کا 29 سال قبل کا ارشاد

رفیع رضا کا شکریہ کہ انہوں نے یاد دلایا لگ بھگ 29 سال قبل اس ملک کے سب سے اعلیٰ نسل کے دانشور اور ….جیسے منہ والے صحافی ادیب شاعر سابق سفارتکار اور حاضر سروس چیئرمین پی ٹی وی عطاءالحق قاسمی نے ارشاد فرمایا تھاکہ ہرمہینے کے مخصوص ایام میں عورت نماز پڑھ سکتی نہ قرآن ، تو پھر حکمران بن کر ان مخصوص دنوں میں وہ اہم فیصلے کیسے کرسکتی ہے؟ ایام مخصوصہ میں کئے گئے تمام فیصلے مکروہ ہوں گے اور اس کی وجہ سے پورے ملک پر نحوست چھائی رہے گی۔ مگر جناب قاسمی آجکل وحید قریشی کے لکھے گئے مقالے کی بدولت اور قریشی صاحب کی بھر پور مدد سے پی ایچ ڈی اردو لٹریچر کی ڈگری رکھنے والی محترمہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی سیادت اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی قیادت دونوں کےبارےمیں زمین و آسمان کے قُلابے ملارہے ہیں۔ رفیع رضا نے سوال کیا ہے کہ جس شرعی عُذر کی بناپر وہ 35 سالہ محترمہ بینظیر بھٹو کی 29 سال قبل شرعی مخالفت فرما رہے تھے اس کا اطلاق 65 سالہ بیگم صاحبہ پر نہ بھی ہو تو 45 سالہ مریم نواز پر کیسے نہیں ہوگا ؟
اسی لئے اہلِ دانش اور بزرگ یہی کہتے سمجھاتے دنیا سے رخصت ہوگئے کہ بات کرنے اور حرف لکھنے سے قبل اچھی طرح سوچ لینا چاہیئے ، یہ نہ ہوکہ بعد میں اپنی کہی لکھی بات کی وجہ سے سُبکی ہو۔ سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم یاد آگئے ارشاد ہوا” انسان اپنے کلام میں پوشیدہ ہے بات کرو تاکہ پہچانے جاﺅ”۔ رفیع رضا نے 2017ءسے نکال کر 1988ء میں لے جا کھڑا کیا۔ وہی 1988ءجب جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگے۔ لاہور اور قریبی شہروں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ صاحبہ بیگم نصرت بھٹو کے خلاف غلیظ اور بیہودہ پمفلٹ پھینکوائے گئے۔ اسلامی صحافت اور دوقومی نظریہ کے مجاوروں نے کون سا الزام تھا جو بینظیر بھٹو پر نہیں لگایا۔ ایسے ایسے الزام عائد کئے گئے جو اس بازار کے قدیم باسی بھی مخالف کوٹھے کی بچیوں پر نہیں لگاتے۔
29 سال بیت گئے زبان اور کلام کے زخم نہیں بھرے اور پچھلے مہینہ بھر سے تو وہ تازہ ہوئے اور رِسنے لگے۔ جاتی امرا کے دسترخوان پر شکم سیری اور خاندان شریفیہ کی مہربانیوں سے سکوٹر و چند مرلے کے مکان کی جگہ اعلیٰ قیام گاہ ٹھنڈی گاڑیوں اور مراعاتی عہدوں سے فیض یاب ہونے والی رجعت پسند کھیپ کے سب مُنہ پر آرہا ہے جو کہا لکھا تھا۔ کچھ تو اخلاقی پاسداری کے نمبر دیجئے پیپلزپارٹی کے بچے کُھچے کارکنوں اور اس کے بہی خواہوں کو کہ انہوں نے زندہ ثبوتوں کی موجودگی میں بدلے کی بھاﺅنا کا میدان لگانے کی کوشش نہیں کی حالانکہ بہترین مواقع انہیں دستیاب ہوئے بلکہ این اے 120 ضمنی انتخابات کا معرکہ تو کھل کھیلنے کا ٹی20 ثابت ہوتا۔ ہماری نسل کے لوگوں کو بہت اچھی طرح یاد ہے کہ تیسرے فوجی آمر نے اپنے دوراقتدار میں کہا تھا سیاستدان دُم ہلاتے ہوئے بھاگتے آئیں گے اگر میں ہڈی ڈالوں۔ ان کے اپنے دو صاحبزادے سیاست کے میدان میں برسوں متحرک رہے۔ بڑے صاحبزادے اعجازالحق تو آج بھی مسلم لیگ (ضیاء ) نام کی سیاسی جماعت کے مالک اور قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ زمانے کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ 1988ءکے انتخابات ہی تھے جب جماعت اسلامی کے لاہور سے ایک امیدوار قومی اسمبلی حافظ سلمان بٹ نے علی پارک میں اپنے انتخابی جلسے میں بھٹو خاندان کی خواتین بارے نازیبا کلمات کہے۔ مشرف دور کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں یہی سلمان بٹ لاہور کی ضلعی نظامت کے لئے پیپلزپارٹی کی قدم بوسی کرکے مشترکہ امیدوار بنے اور 2002ءکے قومی انتخابات کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے چند بڑوں کے گھر کی خواتین قومی و صوبائی اسمبلیوں میں تشریف لے گئیں۔ 1988ءاور اس سے پہلے سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت حرام قرار دینے والوں میں سے بہت ساروں کی بیگمات بیٹیاں خواہران نسبتی حلال قرار پائی اسمبلیوں میں جلوہ افروز ہوئیں۔
بھٹو خواتین کے خلاف نفرت اُگلتے مُلّا صحافی اور دوقومی نظریہ کے مجاور کبھی رتی برابر شرم محسوس نہیں کرتے . ان بوزنوں کو چاہیئے تھا کہ عوام سے معافی مانگتے کہ انہوں نے محض سیاسی عناد میں عزتیں اچھالیں۔ اور تو اور عورت کی حکمرانی کو کفر قرار دینے والے ہمارے ممدوحِ مکرم مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت بھی عورت کی حکمرانی کے دونوں ادوار میں اقتدار سے فیض یاب ہوئے۔ سیاسی تاریخ عجیب چیز ہے ایک بات یاد کرو دوسری یاد دلانے لگتی ہے۔ اعلیٰ نسل کے دانشور ادیب شاعر کالم نگار سابق سفارتکار اور حاضر سروس چیئرمین پی ٹی وی نے ان دنوں پی ٹی وی کو مریم نواز کا میڈیاسیل بنایا ہوا ہے۔ پی ٹی وی کی سکرین پر چند لمحے ٹھہر کر دیکھئے تو ایسا لگتا ہے کہ مریم نواز کی بیمار والدہ این اے 120 سے لگ بھگ پانچ لاکھ ووٹ لے کر جیت چکیں۔ لاکھ اختلاف کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ شام چوراسی سے امرتسر تک کا ہر صحافتی فنکار ان دنوں عمر بھر کی روٹیاں حلال کرنے پر لگا ہوا ہے۔ ان کی باتیں سنیں تو ایسا لگتا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کے بعد اﷲ نے بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز کی شکل میں اکرام کیا ہے اس قوم پر۔ کیسے لوگ ہیں جو پانامہ رانی کو جودھابائی بناکر پیش کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ شام چوراسی والے صحافتی فنکار کا تو بس نہیں چلتا ورنہ وہ یہ کہہ اٹھتے کہ مریم نواز جھانسی کی رانی کا دوسرا جنم ہے۔ سرائیکی زبان کا ایک پرانا لطیفہ سنانے کو دل کرتا ہے مگر اخلاق اور آداب مانع ہیں۔ پھر بھی یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ سیاسی مخالفتوں کو کفر و اسلام اور حب الوطنی و غداری کے معاملات کی طرح نہ اچھالا کریں۔ چشم فلک دیکھ چکی کہ جس بینظیر بھٹو کے خلاف میاں نوازشریف نے 1988ءمیں شرمناک مہم چلائی تھی 1999ءکے بعد وہ اسی کو قابل احترام بہن کا درجہ دینے پر مجبور ہوگئے۔
یہی حال ہمارے دینداروں کا ہے ایک دوسرے کے خلاف گز گز لمبی زبانیں اور فتاوے ہی ان کا رزق ہیں لیکن ایک دن سارے شعبدہ اور فتویٰ باز جنرل مشرف کے ماتحت میجر جنرل احتشام ضمیر کے برین چائلڈ ایم ایم اے کو گود میں لئے لُوریاں دیتے دکھائی دیئے۔ کاش اس ملک کے لوگ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ سیاست اور دینداری کے سارے فتوے محض اپنا مال فروخت کرنے کا اشتہار ہوتے ہیں۔ سیاسی تاجروں کی طرح مذہبی تاجر بھی کسی وقت کہا لکھا بھول کر شاہراہ دستور پر مشترکہ دھمالی پروگرام شروع کرسکتے ہیں۔ ماضی میں کئی قسم کے دھمالی پروگرام ہم اور آپ دیکھ بھی چکے۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ آسمان پر تھوکنے کا رسک نہیں لینا چاہیے کبھی بھی نہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات نے گزرے برسوں کی کیا کیا باتیں یاد دلادیں۔ سچ یہی ہے کہ سیاست میں حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ ہوتا تو بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جماعت اسلامی کے وفد کو گڑھی خدابخش پہنچ کر بھٹوز کی قبروں پر فاتحہ خوانی نہ کرنا پڑتی۔ یہ سیاسی تاجر اور دینداری کا چورن بیچنے والے عوام کو لڑا مرواکر اپنی قیادتوں اور سیادتوں کو قائم و دائم رکھتے ہیں۔ باقی کے قصے رہنے دیجئے پچھلے 70برسوں کی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیں حیرت ہے لوگ کیا کہتے تھے اور کیا ہوگئے۔ این اے 120 کا الیکشن بظاہر بیگم کلثوم نواز جیت جاتی دکھائی دیتی ہیں۔ دو حکومتیں ان کے لشکریوں کے طور پر سرگرم عمل ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے شریف خاندان کو پڑھنے ڈال دیا ہے۔ بعض علاقوں میں (ن)لیگ خواتین کے شناختی کارڈز خرید رہی ہے اور بعض مقامات پر لاہور کے سکہ بند غنڈے دھونس جمارہے ہیں۔ فیصلہ رائے دہندگان ہی کریں گے۔ لاریب ان کا حق ہے فیصلہ کرنے کا لیکن افسوس ہوتا ہے جب خاندانوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے لوگ جمہوریت کو اپنے آقاﺅں کی مہربانی قرار دیتے ہیں۔ “” خصوصی نوٹ “”
کالم کی اشاعت کے بعد چند دوستوں نے متوجہ کیا کہ کالم جس تحریر کی بنیاد پر لکھاگیا ہے وہ تحریر بابا کوڈا کی ہے مجھ تک تحریر رفیع رضا کے حوالے سے پہنچی اس لئے ان کا ذکر کیا . بہر طور ہردو حضرات باباکوڈا اور رفیع رضا کا شکرگزار ہوں

کالم پسِ چہرہ
حیدر جاوید سید

Related posts

Leave a Comment