افسر سرکاری‘ ملازمین پرائیویٹ‘ پنجاب حکومت کا عوام کیساتھ ٹیکنیکل فراڈ

اسلام آباد(حامد یٰسین)پنجاب حکومت کا عوام کیساتھ انوکھا‘ ٹیکنیکل اور قانونی ہیرا پھیریوں کا فراڈ بے نقاب ہوا ہے۔ ٹیکنیکل انداز میں فراڈ کرتے ہوئے حکومتی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے والے شہریوں کو سرکاری کی بجائے پرائیویٹ ملازمت دے کر ٹرخا دیا جا تا ہے۔ ملازمین کو ان کا حق دیا جاتا ہے اور نہ قانونی تقاضے پورے کئے جاتے ہیں۔جبکہ ان اداروں کے افسران سرکاری ہوتے ہیں اور تمام مراعات انجوائے کرتے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت کے زیر کنٹرول اداروں پنجاب فوڈ اتھارٹی ‘ پی ایچ ایز‘ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز‘ ماڈل بازار کمپنی‘ کیٹل مارکیٹ کمپنی‘ پارکنگ کمپنیز‘ پبلک سکولزاور متعدد دیگر اداروں میں ملازمین کنٹریکٹ پر‘ غیرمستقل‘ ڈیلی ویج پر اور بغیر کسی قانونی تحفظ کے رکھے جارہے ہیں۔ملازمین کو سرکاری ملازم کا درجہ حاصل نہیں ہے جبکہ انہیں پنشن ‘ علاج معالجے کی سہولت‘ ملازمت کا تحفظ سمیت کوئی بھی مراعات نہیں دی جا رہیں۔ان اداروں ‘ اتھارٹیز اور پبلک کمپنیوں کے ملازمین تو پرائیویٹ ہیں مگر افسران سرکاری اور تمام مراعات حاصل کرنے والے ہیں۔ ماہرین پنجاب حکومت کے اس اقدام کو قانون سے بالاتر قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر تو یہ کمپنیاں اور ادارے پرائیویٹ ہیں تو انہیں سرکاری درجہ نہیں دیا جا سکتااور ان میں سرکاری افسران بھی نہیں لگائے جا سکتے اور اگر یہ کمپنیاں‘ اتھارٹی اور ادارے سرکاری ہیں تو ان کے ملازمین کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح سرکاری ملازم کا درجہ دینا لازم ہے اور انہیں بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح تمام سہولیات اور تحفظ فراہم کرنا ہونگے۔

Related posts