امتحانی عملے کیلئے کمشنر آفس ایجوکیشن اتھارٹی پردباؤ ڈالنے لگا


فیصل آباد(نیوزلائن)تعلیمی بورڈ فیصل آباد کو امتحانی عملے کی فہرستیں فراہم کرنے کیلئے کمشنر آفس فیصل آباد ایجوکیشن اتھارٹی پر غیرضروری دباؤ ڈالنے لگا۔ تعلیمی بورڈز کو امتحانی عملے کی فراہمی سکولوں سے براہ راست کرنے کی بجائے ایجوکیشن اتھارٹی کی اجازت سے مشروط کی گئی ہے۔تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کا عارضی چارج ملتے ہی کمشنر فیصل آباد نے اس معاملے میں کمشنر آفس کے عملے کو بھی دھکیل لیا ۔ بورڈ افسران کی بجائے ایڈیشنل کمشنر کے ذریعے ایجوکیشن اتھارٹیز کو فوری عملہ کی فراہمی کا حکم نامہ جاری کیا گیاہے۔نیوز لائن کے مطابق تعلیمی بورڈز کو امتحانی عملے کی فراہمی ایجوکیشن اتھارٹی کی اجازت سے مشروط کی گئی تھی تاکہ سکولوں میں اساتذہ کی موجودگی اور تعلیمی معاملات متاثر ہونے سے بچائے جا سکیں مگر اس سب میں کمشنر فیصل آباد حائل ہو گئے ہیں اور کمشنر نہ صرف امتحانی عملے کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ایجوکیشن اتھارٹیز کو تعلیمی بورڈ سے ڈیل کرنے کی بجائے اس حوالے سے کمشنر آفس کے عملے کو بھی استعمال کررہے ہیں۔کمشنر مومن آغا کے حکم پر ایڈیشنل کمشنر نے فیصل آباد ‘ جھنگ‘ ٹوبہ‘ چنیوٹ کے ایجوکیشن اتھارٹیز حکام کو کمشنر آفس میں طلب کیا اور انہیں حکم سنایا کہ تعلیمی بورڈ کیلئے عملہ فوری فراہم کریں۔ ذرائع کے مطابق اس موقع ہر ایک اتھارٹی کے افسر نے سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور ان کے جانے پر سکولوں میں پڑھائی متاثر ہونے کا معاملہ اٹھایا تو انہیں جواب دیا گیا کہ چاہے پورا سکول خالی ہوجائے آپ بورڈ کو فوری عملہ فراہم کریں۔ایجوکیشن اتھارٹی کے حکام نے تعلیمی بورڈ کے معاملات کو کمشنر آفس کے حکم ناموں کے ذریعے چلانے پر حیرانگی کا بھی اظہار کیا اور اس معاملے میں کمشنر آفس حکام کے حکم ناموں پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا مگر ’’افسر‘‘ کے حکم کے سامنے کچھ نہ کرسکے ۔ذرائع کے مطابق تعلیمی بورڈ حکام کو میٹرک کے امتحانات کیلئے گیارہ ہزار سے زائد اساتذہ کرام اور دیگر عملے کی ضرورت ہوگی۔ سکولوں اور کالجوں سے اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کے امتحانی ڈیوٹیوں کیلئے نکل جانے پر سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔

Related posts