انضمام الحق اور اراکین سلیکشن کمیٹی ناکام ثابت ہوئے‘ فارغ کردیناچاہئے

اسلام آباد(حامد یٰسین)پاکستان کرکٹ کیساتھ قومی سلیکشن کمیٹی نے جو مذاق کیا ہے اس کی مثال دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ حالیہ سلیکشن کمیٹی بنانے کا اس کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں آتا کہ انضمام الحق کو مالی فائدہ پہنچایا جائے۔کمیٹی کے ایک سفارشی رکن وسیم حیدرکی اہلیت ہی مشکوک ہے اور ان کی کارکردگی سوائے میٹنگ میں جانے کے نظر ہی نہیں آتی ویسے بھی وہ اپنے میڈیسن کے بزنس اور (کرکٹ کے بزنس )میں اس قدر مصروف ہیں کہ سلیکشن کمیٹی کے رکن کے اہم کام کیلئے وقت نکالنا ان کیلئے ممکن ہی نہیں ۔انضمام الحق پاکستان کرکٹ کا ایک بڑا نام ضرور ہیں مگر سلیکشن کمیٹی میں بیٹنگ نہیں کرنی ہوتی ۔ سلیکشن کمیٹی کوچ سے زیادہ کوچ ہوتی ہے۔ کوچ نے کچھ سکھا کر نتائج دینا ہوتے ہیں سلیکشن کمیٹی نے ہنر پرکھ کر کوچ کے حوالے کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ انضمام الحق اس معاملے میں بالکل’’ کورے‘‘نظر آرہے ہیں۔آسٹریلیا‘ ونڈیز اور دیگر غیرملکی دوروں میں ٹیم کی کارکردگی سلیکشن کمیٹی کے حالات ظاہر کرنے کیلئے کافی تھی مگر چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ترین انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کیلئے 15رکنی سکواڈ کا چناؤ بھی انضمام کمیٹی نے’’ کے ٹو‘‘ کی چوٹی سر کرنے سے مشکل بنا دیا۔مگر آخر میں’’ کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ ۔ پرانی ٹیم جو کئی معرکوں میں ناکام ثابت ہوئی اسی کو چیمپئنز کے مقابلے میں میدان میں اتارنے کیلئے بھجوا دیا۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل ہی سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی کا پول کھل گیا۔ثابت ہو ا کہ عمراکمل کو ان فٹ ہونے کے باوجود جعلی فٹ قرار دے کر منتخب کیا گیا۔پہلے میچ سے قبل ہی وہاب ریاض کی فٹ نس بھی جعلی ثابت ہوگئی۔ سلیکشن کمیٹی کا بھرم رکھنے کیلئے ٹیم انتظامیہ نے انہیں میچ میں کھلایا مگر وہاب ریاض خود ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کا بھرم نہ رکھ سکے اور دوران میچ ہی اپنی فٹنس کا پول کھول بیٹھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں سری لنکا کیخلاف کامیابی محمد عامر کی عمدہ بلے بازی کی بدولت ملی مگر ساتھ میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عامر بلے باز نہیں بولر ہیں۔ پورے ٹورنامنٹ میں ان کی بولنگ کی کاٹ نظر نہیں آئی۔ بولنگ کرتے ہوئے ان سے سپیڈ کرائی جاتی رہی اور نہ ان کی بولنگ میں کاٹ نظر آئی۔سیمی فائنل جیسے اہم ترین میچ اور وہ بھی انگلینڈ کیخلاف تھا تو محمد عامر کی فٹنس کاپول بھی کھل گیا۔سیمی فائنل میں ٹیم کو مین سٹرائیکر کیلئے نئے لڑکے کو’’ ڈیبیو‘‘کرانا پڑا۔پہلے ہی میچ میں احمد شہزاد کی فٹنس اور فارم کا پول بھی کھل چکا ۔ محمد حفیظ اور شعیب ملک کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے۔ اظہر علی کی ہر اننگز ڈری سہمی چڑیا جیسی ہے۔ اس جیسا سینئر بلے باز آسان کیچ تھمانے اور اپنی ٹیم کے بالز ضائع کرکے رنز بنانے کے مواقع ہاتھ سے جانے دے تو اس کی کارکردگی اور پچیس ‘ تیس رنز سے ٹیم کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کو فخر زمان کیساتھ کوئی اچھا سا اوپنر دیکھلینا چاہئے جس پر اعتماد کیا جاسکے اور خود کیلئے نہیں بلکہ ٹیم کیلئے کھیلتا ہو۔جب سلیکشن کمیٹی کے چنے گئے 15رکنی سکواڈ میں سے عمر اکمل‘ وہاب ریاض‘ محمد عامر‘ احمد شہزاد کی سلیکشن اہلیت مشکوک اورفٹنس جعلی ہوجبکہ سینئر بلے بازوں محمد حفیظ‘ شعیب ملک‘ اظہر علی کی کارکردگی سوالیہ نشان ہو توسلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے ہی ہیں۔ انضمام الحق اور ان کی کمیٹی ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ بورڈ میں باقی کلین اپ ایک الگ مسئلہ ہے سلیکشن کمیٹی کو فوری فارغ کرکے ذمہ دار افراد کو یہ ذمہ سونپی جانی چاہئے۔

Related posts