ایفی ڈرین کیس: عباسی کو عمر قید کی سزا‘ الیکشن کیلئے نا اہل


راولپنڈی (نیوزلائن)راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت نے حلقہ این اے راولپنڈی 60سے مسلم لیگ (ن)کے امیدوار حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سناتے ہوئے باقی سات ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ٗ فیصلے کے بعد حنیف عباسی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا اور سز ا کے بعد لیگی امیدوار الیکشن کیلئے نا اہل ہوگئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق عدالت کی جانب سے حنیف عباسی و دیگر ملزمان کے خلاف ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو تاخیر کا شکار ہوا اور رات کو 11 بجے کے قریب سنا دیا گیا۔عدالت نے مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور حنیف عباسی کو مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تاہم ان کے ساتھ نامزد دیگر ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی جہاں فیصلے کے بعد حنیف عباسی کو گرفتار کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔قبل ازیں انسدادِ منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے حنیف عباسی اور دیگر کے خلاف 2012 میں درج کیے گئے مقدمے کی سماعت کی، اس دوران حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال پیش ہوئے اور کیس پر دلائل دینے کا سلسلہ شروع کیا۔وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل پر الزام عائد کیا گیا جبکہ ایفی ڈرین منشیات کے زمرے میں نہیں آتی، مقدمے کا اندراج بھی ٹھیک نہیں ہوا کیونکہ اس کیس میں نائن سی کا مقدمہ قانونی طور پر بنتا ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) حکام ساتھ ساتھ یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ حنیف عباسی نے ایفی ڈرین کوٹہ کا غلط استعمال کیا۔وکیل تنویر اقبال نے کہا کہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ شک کا فائدہ دیتے ہوئے کسی بھی ملزم کو ایسے کیس سے بری کیا جا سکتا ہے۔دورانِ سماعت وکیل حنیف عباسی نے کہا کہ اے این ایف ایفی ڈرین کے حوالے سے کوئی ایک مثال بتا دے کہ یہ غلط استعمال ہوئی جس پر عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ جتنا جلدی آپ اپنے دلائل مکمل کرلیں زیادہ بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بجلی چلی جائے تو مشکل ہو گی۔عدالت نے استفسار کیا کہ اے این ایف اگر لیب میں ٹیسٹنگ کے لیے کوئی چیز بھجواتی ہے تو وہاں سے کیا رپورٹ آتی ہے؟ کیا لیب اس کا تعین کر سکتی ہے؟انہوں نے کہا کہ کیا مختلف مواقع پر جو دستاویزات اے این ایف حکام تحویل میں لیتے رہے، ان کی وصولی کی رسید دیتے رہے؟ اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ اے بی فارما اور حماس فارما سے متعلق کوریئر سروس کا ریکارڈ موجود ہے۔حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ تحقیقاتی افسر کو چاہیے تھا کہ وہ 5100 جار سمیت تمام ثبوتوں کا ریکوری میمو بناتے مگر ایسا نہیں کیا گیا اور کوئی مضبوط شہادت موجود نہیں ہے۔دوران سماعت وکیل حنیف عباسی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اے این ایف کے وکیل کو جوابی دلائل کا آخری موقع دیا۔اے این ایف پروسیکیوٹر نے اپنے جوابی دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایفیڈرین سے تیار کردہ ادویات کا بیج یہاں سے کراچی گیا ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو این آئی ایچ نے رپورٹ بھیجی وہ متعلقہ اتھارٹی نے بھجوائی، جس میں ایفیڈرین مقدار 9.3 فیصد آئی ہے۔پروسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے جب انکوائری ہوئی تو اس کے بعد مقدمہ درج ہوا، تاہم ہمارا یہ موقف ہے کہ جس مقصد کیلئے ایفیڈرین حاصل کی گئی اسے اس مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔حنیف عباسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی دونوں فیصلوں کو دیکھا ہے اور اس سے پہلے مکمل طور پر فیصلوں کا مطالعہ نہیں کر سکا تھا ٗعدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا گیا کہ فیصلہ تین سے چار گھنٹوں میں سنایا گیا تاہم عدالت کی جانب سے دن بارہ بجے کیاگیا فیصلہ رات تقریباً گیارہ بجے کے قریب سنایا گیا ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے باقی سات ملزمان کو بری کر دیا ۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 363 کلو گرام ایفیڈرین کا درست استعمال کیا گیا ٗ ملزم حنیف عباسی باقی ایفیڈرین کے استعمال کا ثبوت نہ دے سکے۔فیصلے کے بعد حنیف عباسی الیکشن لڑنے کیلئے بھی نااہل ہوگئے۔خیال رہے کہ حنیف عباسی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 راولپنڈی سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے اور اس حلقے سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی الیکشن لڑ رہے تھے۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے باہر پہنچا دیا گیا تھا ٗ لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی احاطہ عدالت میں موجود تھی۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر جولائی 2012 میں 5 سو کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا کیس دائر کیا گیا تھا۔مذکورہ مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ غضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، نزاکت اور محسن خورشید نامی شخصیات شامل ہیں۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں دورانِ سماعت اب تک 5 ججز تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ اس میں 36 گواہان نے اپنی شہادتیں قلمبند کرائیں۔ملزمان پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے ایفی ڈرین کا غلط استعمال کرتے ہوئے منشیاات اسمگلروں کو فرخت کیں۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں اے این ایف نے حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر نائن سی ایکٹ کے تحت مقدمہ نمبر 41 درج کیا تھا۔یاد رہے کہ رواں ماہ 16 تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس عبادالرحمن لودھی نے انسدادِ منشیات عدالت کو حکم دیا تھا کہ وہ مذکورہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے 21 جولائی تک نمٹا دے۔ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم اعلیٰ عدالت نے 17 جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کی۔

Related posts