ایم کیو ایم بہادرآباد کے بدستور لندن سے رابطوں کا انکشاف

کراچی (نیوزلائن)کراچی کی تباہی کا باعث بننے والی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ کے بدستور لندن سے رابطے رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ متنازعہ تقاریر اور پاکستان مخالف اقدامات کی وجہ سے ملکی سیاست سے آؤٹ ہونیوالے الطاف حسین اور انکی ایم کیو ایم لندن کے رہنما پاکستانی سیاست سے مستقل فارغ نہیں ہو پائے ہیں اور ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان میں بدستور رابطے استوار ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے لندن کیساتھ رابطے ابھی تک ختم نہیں ہوسکے۔ بظاہر ایم کیو ایم پاکستان کی لیڈرشپ یہ ظاہرکرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ خودمختارانہ پارٹی چلا رہے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان وہی کررہی ہے جس کی اسے لندن سے ہدائت ملتی ہے۔ اور ہر کام لندن سے مشاورت کیساتھ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم بہادر آباد کے رہنماؤں خالد صدیقی ‘ عامر خان اور دیگر کے بدستور لندن میں رابطے ہیں۔خالد مقبول صدیقی کے عامر خان کے بھی لندن کیساتھ گہرے روابط بتائے جارہے ہیں۔ فیصل سبزواری اور میئر کراچی وسیم اختر بھی لندن کیساتھ رابطے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم بہادرآباد کا فاروق ستار کیساتھ جھگڑا بھی اسی مسئلے پر ہوا تھا۔ فاروق ستار متحدہ کو مکمل خودمختار اور لندن کی مشاورت سے پاک کرنا چاہتے تھے مگر بہادرآباد گروپ بظاہر خودمختاری کا ڈرامہ کرنے اور حقیقت میں لندن کیساتھ رابطے رکھ کر کام کرنا چاہتاتھا۔ اور اس میں کامیابی بہادر آباد گروپ کو ہی ملی۔ ماضی میں بھی بہادر آباد گروپ کے لندن رابطوں بارے اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ پی ایس پی رہنما کھلے عام ان پر لندن رابطوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی سابق ایم این اے ارم فاروقی بھی ماضی میں کھلے عام کہہ چکی ہیں کہ ایم کیو ایم بہادرآباد کو لندن کی سپورٹ حاصل ہے۔ پی ایس پی رہنما بھی ایم کیو ایم لندن کے بہادرآباد گروپ کو سپورٹ کرنے کے الزامات ریکارڈ پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پی بہادر آباد کے فاروق ستار کیخلاف بغاوت کرنے کے پیچھے بھی لندن ہی تھا اور لندن کی حمائت کیساتھ ہی بہادرآباد گروپ تشکیل دیا گیا تھا۔ لندن والوں نے اس وقت بھی اپنا پلڑا پی آئی بی کی بجائے بہادرآباد کے حق میں جھکا دیا تھا جس کے بعد پی آئی بی گروپ کا چلنا محال ہو گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ اب بھی تمام ہدایات لندن سے لے رہا ہے اور الیکشن کے دوران بھی لندن والے بہادرآباد گروپ کے حق میں کمپیئن چلاتے رہے ہیں۔

Related posts