ایچ ای سی ٹیم کا دورۂ تُرکی، اعلٰی تعلیمی نظام کا جائزہ

اسلام آباد(ارم شہزادی) اکیس اراکین پر مشتمل اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ایک ٹیم نے ایک ہفتہ پر محیط پیشہ ورانہ ترقیاتی پروگرام میں شرکت کے لیے تُرکی کا دورہ کیا جس کا مقصد تُرکی میں اعلٰی تعلیم کے شعبہ میں حکومتی پالیسیوں کی بدولت آنے والی ترقی و استحکام ،معیار تعلیم کی بہتری ، تحقیقی ماحول کی ترویج ، اوراعلٰی تعلیمی اداروں میں انتظام و انصرام کی بہتری کے بارے میں سیکھنا تھا۔ پروگرام کا انعقاد تُرکی کے اعلٰی تعلیمی کونسل کے اشتراک سے تُسّائیڈ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز(Tusside Institute of Management Sciences) میں کیا گیا۔ پروگرام میں تُرکی کے اعلٰی تعلیمی نظام کے حوالے سے جامع جائزہ پیش کیا گیا ۔ اس تعلیمی نظام میں گزشتہ پندرہ سال میں مرکوز حکومتی پالیسیوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کی بدولت تیزی سے ترقی ہوئی۔ واضح رہے کہ تُرکی دنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور سال 2023تک دنیا کی دسویں بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے جو کہ تُرک جمہوریہ بننے کی صدی کی تکمیل کا سال ہے۔ اس ہدف کی تکمیل کے لیے حکومت اور انڈسٹری کے ساتھ ساتھ ملک کا اعلٰی تعلیمی شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پروگرام کی مختلف نشستوں کے دوران ماہر ریسورس پرسنز نے تُرکی میں عالمی رجحانات سے ہم آہنگی، اعلٰی تعلیمی مواقع میں اضافہ ، اعلٰی تعلیمی کونسل کی کارکردگی، وزارتوں اورجامعات میں موجود تحقیقی و ترقیاتی اداروں کے کردار اور اعلٰی تعلیمی معیار اور تعلیمی اداروں کی منظوری کے عمل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کیسے تُرک جامعات نے انوویشن اور تحقیق کی کمرشلائزیشن میں معاونتhecکی۔ ایچ ای سی افسران جن کا تعلق تمام اہم ڈوژنز سے ہے کواستاد پر مرکوز نظامِ تعلیم سے طالبعلم پر مرکوز نظامِ تعلیم سے متعلق لائحہ عمل سے اگاہ کیا گیااور بتایا گیا کہ تُرکی نے کیسے یورپی بولوگنا پروسیس (Bologna Process)کا حصہ بننے کے بعد اِس سے استفادہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ تُرکی میں جامعات کی مخصوص شعبہ جات پر توجہ مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ان کی معاونت کی جاتی ہے۔ایچ ای سی ٹیم نے تُرکی کے مختلف اعلٰی تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور مشاہدہ کیا کہ تُرکی کی جامعات کیسے ملک کی سماجی واقتصادی ترقی کے ستون کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ٹیم نے Sabanci Universityکا بھی دورہ کیا جس کاآغاز 1999میں ہوااور آج ترکی کی اہم ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ ٹیم کے اراکین کے سامنے جامعہ میں گورننس ، کوالٹی اشورنس ، انوویشن اور انٹر پرینیورشپ کے نظام کے حوالے سے ایک جائزہ پیش کیا گیا۔ اسی طرح ایچ ای سی ٹیم نے Yildiz Technical Universityکا بھی دورہ کیا جس کی نمایاں خصوصیات میں اسکی طرف سے قائم کردہ ٹیکنالوجی پارک شامل ہے۔ جامعہ میں 220سے زائد ٹیکنالوجی کمپنیاں متحرک ہیں جو کہ مشینری ، آئی سی ٹی ، الیکٹرانکس، اورسوفٹ وئیر ڈیویلپمنٹ سے متعلق ہیں اور اس کے اسٹاف میں سو انکیوبیٹر کمپنیاں اور پانچ ہزار آراینڈ ڈی ملازمین شامل ہیں۔ جامعہ کا Yildiz Technology Transfer Officeاعلٰی تعلیم کے شعبے سے منسلک ماہرین ، طلباء اور صنعتکاروں کو تربیتی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ پروگرام سے متعلق ایچ ای سی پلاننگ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مظہر سعید نے کہا کہ مجموعی طور پر پروگرام کے ذریعے ایچ ای سی ٹیم کو تُرکی کے اعلٰی تعلیمی نظام کی تیزرفتار ترقی کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی ٹیم نے ترکی کے اعلٰی تعلیمی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے تُرک اعلٰی تعلیمی کونسل اور تُسّائیڈ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز تُرکی کی طرف سے ترکی کے اعلٰی تعلیمی شعبے پر جامع جائزہ پیش کرنے کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایچ ای سی پاکستان تقریباََ اسی طرز پر کام کر رہا ہے تاہم اس دورے سے ایچ ای سی ٹیم کے تجربے میں مزید اضافہ ہوگا۔

Related posts