بلدیاتی الیکشن : مخصوص امیدواروں کو جتوانے کیلئے بیوروکریسی سرگرم

لاہور(نیوز لائن)انتخابات کوئی بھی ہوں ہمیشہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر الزامات لگاتی ہیں اور امیدواروں کی کامیابی کیلئے مخصوص ہتھکنڈے استعمال کرنے اور دھاندلی کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں مگر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے دوران انتہائی دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے کہ حکومتی جماعت کے ذمہ داران ہی پنجاب حکومت اور بیورو کریسی پر الزامات عائد ر رہے ہیں کہ وہ مخصوص امیدواروں کی کامیابی کیلئے کردار ادا کر رہی ہے۔وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ پر کھلم کھلا الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے امیدواروں کو جتوانے کیلئے بیورو کریسی کا استعمال اور شباب و شراب کی محفلیں سجا کر چیئرمینوں کو مائل کر رہے ہیں۔وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ پر یہ الزامات ان کے اپنے ہی شہر فیصل آبادمیں لگ رہے ہیں۔ وزیر قانون پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے اپنی پسند کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے یو سی چیئرمینوں کو رام کرنے کیلئے شراب و شباب کی محفلیں سجائیں۔ اس کے ساتھ ہی فیصل آباد کی بیورو کریسی پر الزامات لگ رہے ہیں کہ اس نے رانا ثناء اللہ کی ایما پر مخصوص امیدواروں کی کامیابی کیلئے کام کیا۔ یو سی چیئرمینوں پر دباؤ ڈالا کہ رانا ثناء اللہ کی پسند کے امیددواروں کو ووٹ دیں۔پنجاب حکومت کے اہم ترین وزیر اور صوبے کے دوسرے بڑے شہر کی بیورو کریسی پر یہ الزامات اپوزیشن کی طرف سے نہیں لگائے جا رہے۔ پنجاب حکومت‘ صوبائی وزیر قانون اور بیورو کریسی کے منفی ہتھکنڈوں کا بھانڈا خود مسلم لیگ ن کے ہی اہم رہنماؤں نے ہی پھوڑا ہے۔الزامات لگا رہے ہیں مسلم لیگ ن کے اہم اور مرکزی رہنما‘ میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی اور قریبی عزیز چوہدری شیر علی۔ ان کے ساتھ الزامات عائد کرنے والوں میں موجودہ و سابق ارکان اسمبلی اور متعدد اہم حکومتی رہنما بھی شامل ہیں۔ حکومتی جماعت کے اندر سے ہی انتخابی حوالے سے ایسے سنگین الزامات سامنے آنے پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے شفاف ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Related posts