بھارتی بینکوں پر تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ ،60لاکھ صارفین کا اے ٹی ایم ڈیٹا چوری، فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لوگ سب سے زیادہ متاثر

بھارت پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ کرتا رہا جبکہ نامعلوم ہیکرز نے ہندوستانی بینکوں پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کر کے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کا غرور اور انڈین سیکیورٹی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ،بھارت میں 32لاکھ سے زائد ڈیبٹ کارڈز کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ جبکہ 30لاکھ سے زائد ڈیبٹ کا رڈز کی خفیہ معلومات چوری ہو چکی ہیں ،سائبر حملے کی اہم بات یہ ہے کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا ان میں زیادہ تعداد ان صارفین کی بتائی جارہی ہے جن کا تعلق فوج اور سیکیورٹی اداروں سے ہے ،بھارتی بینکوں نے تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کے بعد صارفین سے اے ٹی ایم کارڈ تبدیل کرنے یا پھر پن کوڈ بدلنے کی درخواست کر دی ہے جبکہ سٹیٹ بینک آف انڈیا نے 6 لاکھ اے ٹی ایم کارڈ بلاک بھی کر دیئے ہیں جبکہ دیگر پر کام جاری ہے ۔بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق بھارت میں قریب 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ زپر خطرہ منڈلا گیا ہے، ملک کے کئی اہم اور بڑے بینکوں سے صارفین کے خفیہ ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بینکوں نے اپنے صارفین سے اے ٹی ایم کارڈز تبدیل کرنے یا پھر اس کا پن کوڈ تبدیل کرنے کے لئے کہا گیا ہے،بھارتی ٹی وی کے مطابق اسے ہندوستانی بینکوں پر اب تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ بتایا جا رہا ہے۔تقریبا 30 لاکھ بینک صارفین کے ڈیبٹ اور اے ٹی ایم کارڈ زکے ڈیٹا چوری ہو نے کے انکشاف کے بعد حکام کے ہوش اڑ گئے ہیں۔اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی سٹیٹ بینک (ایس بی آئی) نے اب تک تقریبا 6 لاکھ لوگوں کے اے ٹی ایم کارڈ زکو بلاک کر دیا ہے جبکہ دیگر پر کام تیزی سے جاری ہے ،ایس بی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ جن 6 ملین صارفین کے کارڈ بلاک ہو چکے ہیں، ان کونئے کارڈ ز بنا کر دیے جائیں گے،وہیں تقریبا 10 بینکوں نے اس سائبر حملے کی شکایت سائبر کرائم سیل سے کی ہے۔چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس حملے میں سب سے زیادہ فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بینکوں کی جانب سے اپنے صارفین کو پیغامات بھیجے گئے ہیں کہ وہ اپنے اے ٹی ایم کا پن کوڈ بدل لیں، کچھ بینکوں نے اپنے صارفین کے پن کوڈبھی بلاک کر دیے ہیں اور انہیں نیا پن کوڈ لگانے کے لئے کہا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، کارڈ نیٹ ورک کمپنیوں نیشنل پیمیٹس کارپوریشن آف انڈیا، ماسٹر کارڈ اور ویزا کارڈ نے ہندوستان کے تمام بینکوں کو اس کی اطلاع دی ہے کہ کچھ کارڈز کی معلومات چوری ہوئی ہیں، وہیں آر بی آئی اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔آر بی آئی نے ویزا اور ماسٹر کارڈ کے لیے ہدایات دی ہیں کہ وہ کسٹمرز کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کرے، بینکوں کے صارفین کا ڈیٹا کہاں سے چوری ہوا ہے اس کی جانچ اور مکمل تحقیق جاری ہے۔دوسری طرف ’’اکنامک ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جن بینکوں کے صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا ان میں سب سے زیادہ متاثرین ایچ ڈی ایف سی بینک ،آئی سی آئی سی بینک ،وائے ای ایس بینک اور ایکسس بینک شامل ہیں جبکہ 26لاکھ ویزاکارڈ اور ماسٹر کارڈ رکھنے والے صارفین اور 6لاکھ ’’روپے کارڈ ‘‘صارفین متاثر ہوئے ہیں ۔

Related posts