بھارت سے روئی کی درآمدات پر پابندی

کراچی (نیوزلائن)بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت کے باعث پاکستان نے بھارت سے غیراعلانیہ طور پرروئی کی درآمدات معطل کردی ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹرکے باخبر ذرائع کے ،طابق وفاقی وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ماتحت ادارے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے اعلیٰ حکام کی متعلقہ اسٹاف کوبھارت سے روئی کی درآمدات کیلیے امپورٹ پرمٹ کا اجرا روکنے کے زبانی احکام دیے گئے ہیں اورگزشتہ 3 روز سے بھارتی روئی کی امپورٹ پرمٹ کا اجرا معطل ہے۔
نیوزلائن کے مطابق ٹیکسٹائل کے مقامی برآمدکنندہ مینوفیکچررز بھارت سے کپاس کے علاوہ کمیکلزاورڈائز کی بھی بڑی مقدار درآمدکرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت سے بغیرامپورٹ پرمٹ کپاس کی درآمدپر پابندی عائد کردی گئی ہے، کچھ درآمدکنندگان امپورٹ پرمٹ کے بغیر کپاس درآمدکررہے تھے جسے صوابدیدی اختیارات کے تحت امپورٹ کے بعد ایگزامن کرکے کلیئرکیا جارہا تھا تاہم بھارت کے ساتھ موجودہ تناؤ کی صورتحال کے بعد یہ سہولت ختم کردی گئی ہے اور اب صرف وہ کنسائمنٹس درآمدکرنے کی اجازت دی جائیگی جس کیلیے پیشگی امپورٹ پرمٹ حاصل کیے گئے ہوں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت سے درآمد کی جانیوالی دیگر اشیا بالخصوص سبزیوں اور زرعی اجناس کی درآمد پر بھی قوانین کا سختی سے اطلاق کیا جائیگا۔ گارمنٹ انڈسٹری ذرائع کے مطابق بھارت سے کپاس کی درآمد یکدم بند ہونے سے پاکستان کی سب سے اہم ٹیکسٹائل وگارمنٹ انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا تاہم پاکستان کے صنعت کار، ایکسپورٹرز اور تاجر دشمن کے ساتھ تجارت کے بجائے خسارہ برداشت کرنے کو ترجیح دینگے اور اس حوالے سے سیاسی وعسکری قیادت کے ہرفیصلے کو قبول کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنانے میں اپنی قربانیاں پیش کریں گے۔ رابطہ کرنے پرپاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے بتایا کہ پاکستان میں کپاس کی فصل پہلے ہی کمی کا شکار ہے اور اب بھارت سے روئی کی درآمدپر پابندی عائد کردی گئی ہے جس سے اگرچہ مقامی برآمدکنندگان کی کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا لیکن قومی جذبے کے تحت برآمدی شعبے دیگر سستے متبادل ذرائع کو استعمال کریں گے۔ مذکوراقدام کے بعد مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کواپنی مطلوبہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا،بھارت سے درآمد ہونے والی روئی کی تقریباً 2 ہزار گانٹھیں واہگہ سرحد پر پڑی ہوئی ہیں اور ان کے پاکستانی حدود میں داخلے کی اجازت منسوخ کر دی گئی ہے۔ کچھ عرصے میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملوں نے بھارت سے تقریباً 55 ہزار گانٹھ روئی درآمدکرنے کے معاہدے کیے تھے

Related posts