تاريخ کے دریچوں میں جھانکتی ہوئی کرکٹ

کرکٹ کھیل کا شمار دنیا کی مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے۔اس کےکھلاڑی تو اس کھیل کو کرتے ہی ہیں مگر یہ کھیل دیکھنے والوں کو بھی اس حد تک خود میں محو کیے رکھتی ہے کہ کرکٹ کے ناظرین آنکھ جھپکنا تک بھول جاتے ہیں۔کرکٹ کی ہار جیت ٹیم کے ساتھ ناظرین کی خوشی و غمی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔بعض اوقات اس کھیل کے شوقین اپنی خوشی یا غمی کا اظہار کرنے میں شدت پسندی بھی اختیار کرجاتے ہیں جس کا خمیازہ ان شدت پسندوں کو مالی و جانی نقصان کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ان حقائق کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت کم لوگ اس مقبول ترین کھیل کی تاریخ سے آگاہی رکھتے ہیں ۔ کرکٹ کی تاریخ کا کھوج لگاتے ہوئے کرکٹ کہانی کے نام ایک تحریر میری نظر سے گزری اس تحریر میں کرکٹ کی تاریخ کچھ یوں درج کی گئی ہے۔لفظ کرکٹ کا پہلی بار استعمال کب ہوا اس کے بارے میں واضح طور پر معلوم نہیں لیکن اتنی بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ لفظ کرکٹ کا لفظ فرانسیسی زبان کے لفظ کرک سے لیا گیا ہے۔تاہم یہ لفظ 1478ء تک فرانسیسی زبان کا حصہ نہیں بن سکا تھا۔ “کرکٹ کہانی” میں بتایا گیا ہے کہ بعض تاریخ دانوں کے مطابق کرکٹ کا لفظ “کرک کرک”کی ترقی یافتہ شکل ہے جس کے معنی “ڈنڈے”یا”ہاتھی” کے ہیں۔کرکٹ متعلق یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس کا آغاز بڑاعظم یورپ سے ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق کرکٹ یا اس سے ملتا جلتا کھیل تیرہویں صدی عیسوی میں شروع ہوچکا تھا۔اس طرح کے شواہد ایک قدیم پینٹنگ سے ملتے ہیں جس میں ایک نوجوان سیدھی چھڑی اور گیند پکڑے ہوئے ہے اور ڈنڈے سے اسے ضرب لگانا چاہتا ہے۔تاریخی پس منظر کے مطابق اس پینٹنگ کو 1230ء سے منسوب کیا جاتا ہے۔کرکٹ کے متعلق ایک دستاویز کآ ذکر ورسل کی کتاب میں موجود ہے۔اس دستاویز میں لکھا ہے کہ 1550ء میں سرے کاونٹی میں ملکہ برطانیہ کے درباری جان ڈیرج جب فری سکول(گلڈفورڈ) میں سکالر تھے تو وہاں پر بچے اور ان کے دوست کرکٹ کھلتے تھے۔یہ قدیم دستاویز 16 جنوری 1598ء کی ہے جو گلڈ فورڈ کے میئر کے پاس ہے۔رسل نے اپنی کتاب ہسٹری آف گلڈفورڈ میں اس دستاویز کا تذکرہ کیا ہے۔کرکٹ کا کھیل ہنری ہشتم کی بادشاہت کے اختتام تک عوام اور نوجوانوں میں مقبولیت اختیار کر چکا تھا۔عام خیال ہے یہ ہے کہ کرکٹ کا آغاز انگنیڈ کے جنوب مشرقی حصے کے سبزہ زاروں کی چراگاہوں سے ہوا ہے۔چرواہوں سے یہ کھیل عوام تک پہنچا اور پھر آہستہ آہستہ امیر لوگ بھی اس کھیل میں دلچسپی لینے لگے۔1775 میں ایم سی سی کی طرف سے جاری کردہ قوانین میں پہلی بار سکے کہ مدد سے ٹاس کرنے اور نو بال کے اصول بتائے گے۔اسی مسودے میں امپائر کی حیثیت بھی بتائی گئی اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ امپائر کا فیصلہ ہتمی سمجھا جائے گا۔جبکہ کرکٹ کا پہلا انٹرنیشنل میچ 1844ء میں امریکہ اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان نیویارک میں کھیلا گیا۔انگلش ٹیم نے آسٹریلیا کے ساتھ میچ کھیلنے کے لئے 1862ء میں پہلی بار غیر ملکی دورہ کیا جبکہ اکتوبر 1868ء میں آسٹریلوی ٹیم نے انگلینڈ اور کینیڈا کا دورہ کیا اور ان ٹیموں کے مابین میچ بھی کھیلا گیا۔اٹھارویں صدی کے اختتام تک باؤلرز انڈر آرم باولنگ کرتے تھے اوور آرم باولنگ سے کوئی آگاہ نہیں تھا۔کینٹ کاونٹی کا کرکٹر جان ولز اپنی بہن کرسٹیناولز کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا کرسٹیناولز کو لمبے سکرٹ کی وجہ سے انڈر آرم باولنگ میں مشکل پیش ہوئی تو اس نے اوور آرم باولنگ کرنا شروع کردی یہی سے کرکٹ میں اوور آرم باولنگ کا آغاز ہوا۔ جبکہ باقاعدہ 1864ء میں اوور آرم باولنگ کی اجازت دی گئی تھی۔دنیا میں پہلا ٹیسٹ کرکٹ میچ 1877ء میں انگلش ٹیم اور آسٹریلیا ٹیم کے درمیان آسٹریلیا میں ہی کھیلا گیا۔اسی طرح 1882ء میں آسٹریلیا نے ٹیسٹ سیریز کیلئے انگلینڈ کا دورہ کیا اور اوول میں کھیلے گئے میچ میں انگلش ٹیم کی شکست سے ایشزسیریز کا آغاز ہوا۔ان دونوں ٹیموں کے بعد جنوبی افریقہ دنیا کی تیسری ٹیم کے طور پر 1889ء میں ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں شامل ہوئی۔1809 میں ایم سی سی نے پہلے مسودے میں مزید 41 پوائنٹس کا اضافہ کیا جن میں گیند اور بیٹ کا وزن, بیٹ اور وکٹوں کی لمبائی, دوران میچ کسی بھی ٹیم کی طرف سے وکٹ خراب نہ کرنے, رن آؤٹ, سٹمپڈ آؤٹ اور دیگر قوانین شامل کیے گئے۔1889ء میں ایک اوور میں گیندوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 5 کردی گئی پھر 1900ء میں اوور گیندوں کی تعداد 6 کردی گئی۔1900ء تک کرکٹ کھیلنے کے لیے جو بلے استمال ہوتے تھے ان کی لمبائی 45 انچ اورچوڑائی 4.5 انچ تھی بعد میں بلے کی لمبائی کم کرکے 38 انچ اور چوڑائی 4.25 انچ کردی گئی۔اگر ہم وطن عزیز پاکستان کی بات کریں تو ہماری قومی کرکٹ ٹیم نے 1952ء میں ٹیسٹ کرکٹ سے کرکٹ کا آغاز کیا بعدازاں پاکستانی کرکٹ ٹیم جدید کرکٹ میں سب سے زیادہ کامیاب ٹیموں میں سے ایک بن گئی.یہاں پر کرکٹ ورلڈ کپ کے آغاز کی بات کی جائے تو اس کا آغاز 1975ء میں انگلینڈ سے ہوا۔ دینا کا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم نے جیتا اس ورلڈ کپ کے فائنل میچ کو دیکھنے کے لیے 2400 لوگ گراؤنڈ میں موجود تھے۔دوسرا کرکٹ ورلڈ کپ بھی 1979ء میں انگلینڈ نے ہی کروایا جو پھر ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے جیت کر اپنے نام کرلیا۔اس کے فائنل میچ کے دوران 32000 شائقین کرکٹ سٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے تھے۔تیسرے کرکٹ ورلڈ کپ کی ذمداری پھر بانی کرکٹ انگلینڈ نے اٹھائی جبکہ یہ ورلڈ کپ 1983ء میں ہوا۔جو انڈیا کی ٹیم نے جیتا تب 30000 لوگ گرونڈ میں میچ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔چوتھے کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل میچ 1987ء میں آسٹریلیا نے 95000ء ہزار لوگوں کی موجودگی میں انڈیا کے شہر کولکتہ سے جیتا پھر 1992ء میں دنیا کرکٹ کا پانچواں بڑا کرکٹ کپ ٹورنامنٹ منعقد ہوا جو پاکستان کی ٹیم نے عمران کی زیر کپتانی میں جیت کر وطن عزیز کا نام دنیا بھر میں کھیلوں کے میدانوں میں بلند کیا۔ اس ورلڈ کپ کے فائنل میچ کو دیکھنے کے لیے کرکٹ سٹیڈیم میں 87162 لوگ تھے۔اسی طرح چھٹا کرکٹ ورلڈ کپ سری لنکا نے جیتا یہ ورلڈ کپ 1996ء میں ہوا تھا تب 62645 لوگ میدان میں میچ دیکھنے گے۔1999ء میں ساتواے کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل میچ آسٹریلیا نے 30000 لوگوں کی موجودگی میں گراؤنڈ سے اٹھایا۔ 2003ء اور 2007ء والے دونوں کرکٹ ورلڈ کپ آسٹریلیا کے ٹیم نے جیتے تھے۔2011ء میں ہونے والا ورلڈ کپ انڈیا کرکٹ ٹیم جیت لیا جس کے فائنل سے 65000 لوگ گراونڈ میں جاکر لطف اندوز ہوئے اور اسی طرح اب تک کا آخری کرکٹ ورلڈ کپ 2015ء میں ہوا تھا جو ایک بار پھر آسٹریلیا کی ٹیم نے جیت لیا تھا جبکہ 93102 کرکٹ شائقین نے سٹیڈیم میں بیٹھ کر اس میچ کو دیکھا۔چند دن پہلے آئی سی سی چمپئن ٹرافی کے نام سے جو بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد ہوا تھا اس کا آغاز 1998ء سے ہوا ہے۔ آئی سی سی چمپئن ٹرافی کا سب سے پہلے ساوتھ افریقہ کی ٹیم نے اپنے نام کی جبکہ 2017ء میں یہ ٹرافی پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے روایتی حریف بھارت کو فائنل میچ میں ہرا کر انگلینڈ سے پاکستان لے کر آئی۔جس پر پاکستانی قوم اپنے شاہنوں کے مشکور ہیں

afzaal156@gmail.com تحریر افضال احمد تتلا

Related posts