تحریک انصاف کی مہمان نوازی کی منفی روائت: ہر کوئی حیران

pti-workerملک میں مثبت تبدیلی لانے کی دعویدار تحریک انصاف نے مہمان نوازی کی نئی اور منفی روائت قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ اعلان کیا گیا ہے ترک صدر کے پارلیمنٹ کے خطاب کے دوران اجلاس کا بائیکاٹ کرکے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی غیرملکی مہمان پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کر رہا ہو مگر ایک سیاسی جماعت یا کوئی گروپ اس کا بائیکاٹ کر دے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بھٹو دور میں پی این اے تحریک کے دوران اور بعد ازاں نوے کی دہائی میں انتہائی گرما گرمی کا ماحول ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ ن لیگ‘ آئی جے آئی جبکہ مشرف دور میں بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ غیر ملکی مہمانوں کی آمد پر پارلیمانی اور سیاسی معاملات کی بجائے صرف مہمان نوازی کے جذبے کیساتھ پارلیمنٹ کے اجلاس میں تمام جماعتیں شریک ہوتی ہیں اور مہمان کا استقبال مہمان نوازی اور خوش آمدیدی جذبات سے استقبال کیا جاتا ہے۔شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین جیسے سینئر پارلیمنٹیرینز کی موجودگی میں تحریک انصاف کی طرف سے ترک صدر کی آمد پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان نے تمام پارلیمنٹیرینز اور سیاسی و قومی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔اور اسے ملکی و قومی مفاد کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے

Related posts