تحمل سے

ہم خود تو بڑی آسانی سے اپنی بڑی سے بڑی غلطی پر معافی طلب کرلیتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اس کی ذرا سی غلطی پر بھی معاف کرنے کے حامی نہیں ہوتے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ آج صبح آپ یونیورسٹی یا آفس جانے کے لئے تیاری میں لگے ہوئے تھے اور کوئی چیز اپنی جگہ نہ پاکر آپ نے جھنجھلا کر اپنی والدہ یا بیگم کو آواز دی ہو اور اُنہیں سامنے پاتے ہی آپ ان پر پھٹ پڑے ہوں؟۔
اگر ایسا ہے تو ذرا غور فرمائیے، ہوسکتا ہے آپ کی چیزیں اپنی جگہ پر اس لئے نہ ہوں کہ آپ خود ہی لاپرواہی سے انہیں کہیں بھی رکھ دیتے ہوں اور والدہ یا بیگم کو اتنی فراغت ہی نصیب نہ ہوئی ہو کہ اسے سمیٹ کر درست جگہ رکھ سکیں۔ لیکن یہ سب سوچنے اور سمجھنے کیلئے تحمل اور رسان ہونا چاہئیے جو کہ ہمارے معاشرے میں فی زمانہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔
یقین نہیں آتا تو چلیں تھوڑا آگے بڑھتے ہیں، سوچئے جب آپ بس میں کھڑے یا بیٹھے تھے اور کوئی شخص بس کے اچانک بریک لگنے پرغلطی سے آپ سے ٹکرا گیا ہو اور شاید شرمندہ ہوکر اس شخص نے آپ کو معذرت طلب نظروں سے دیکھا ہو اور آپ کا سارا خون غصے کو کنٹرول کرتے کرتے چہرے پر جمع ہوگیا ہو اور جواب میں آپ نے اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا ہو۔ اُس شخص سے آپ کا کوئی قریبی رشتہ نہ ہو لیکن انسانیت کا رشتہ تو بہرحال برقرار ہے، اسی رشتے کا لحاظ کرکے غصے کے بجائے ایک مسکراتی ہوئی نظر اس پر ڈال لیجئے کہ شاید وہ بھی آپ سے شرمندہ ہونے کے بجائے آپ کا ممنون ہو جائے۔
اب ذرا وہ افراد جو بائیک پر سفر کرکے اپنے دفاتر کو پہنچنے کے عادی ہیں وہ سوچیں کہ کوئی شخص روڈ کراس کرتے ہوئے آپ کی بائیک سے انجانے میں ٹکرا گیا ہو اور جواب میں آپ نے جواباً مغلظات سے اُسے نوازا ہو، ہوسکتا ہے اس میں کہیں آپکا ہی قصور ہو اور آپ ہی رانگ وے(Wrong Way) پر سفر کررہے ہوں، اور اگر نہ بھی کر رہے ہوں تو کم از کم ایک بار سامنے والے کے تاثرات ضرور دیکھ لیجئے کیا معلوم آپ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے۔
یہ تو روز مرہ معمولات نظر آنے والے چند واقعات ہیں۔ صرف یہی کیا، دن بھر میں ہم نہ جانے کتنی بار اور کن کن افراد پر بے جا غصہ اتارتے ہیں، اور احساس تک نہیں کرتے کہ مقابل پر کیا گزر رہی ہے۔ ایسے مواقع بہت ہی کم میسرآتے ہیں کہ جب ہم بمشکل اپنے غصے کو قابو کرکے خاموش ہوجائیں۔
چڑچڑا پن اور غصہ آج کے معاشرے کی عام سی بات ہے۔ ذرا کوئی بات ہمارے مزاج کے خلاف ہوئی اور ہماری طبعیت پر گراں گزری، ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ اکثر بےقصور افراد پر ہم اپنی نفرت اُنڈیل دیتے ہیں۔
عدم برداشت ہمارے معاشرے کا ایک بڑا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہم خود تو بڑی آسانی سے اپنی بڑی سے بڑی غلطی پر معافی طلب کرلیتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اس کی ذرا سی غلطی پر بھی معاف کرنے کے حامی نہیں ہوتے۔ جس طرح ہم خود کو معافی کا حقدار سمجھتے ہیں، وہ ٹھیک اسی طرح دوسرے بھی انسان ہیں انہیں بھی معاف کرنا اور باتوں کو در گزر کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے اُنکی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں ہوتی اور یہ اللہ کو بھی مرغوب ہے۔ شاید نہیں بلکہ یقیناََ آپ کسی کو معاف کرکے کچھ نیکیوں کے حقدار بھی ضرور بن جائیں گے۔
کسی کی غلطی پر اُسے سزا دینے کی بجائے معاف کر کے دیکھیں کسی کی غلطی پر اُسے معاف کرکے اور صبر کرتے ہی دل میں سکون اُترنا شروع ہوجائے گا اور دل ہوا کی طرح ہلکا پھُلکا ہو جائے گا۔
مہوش کنول

Related posts