تیس ہزارسال قدیم شیرکے بچے برآمد

شمالی روس کے منجمد علاقوں کے ایک غار میں ہزاروں سال قدیم غاروں میں رہنے والے یورپی شیر کے دو بچے منجمد حالت میں پائے گئے ہیں ۔ ماہرین اسے شیروں پر تحقیق کے لیے اب تک کی سب بڑی دریافت قرار دے رہے ہیں ۔ تفصیل کے مطابق روسی شہر سالٹ لیک سٹی میں دریائے یوآن دینا کے قریب سے برآمد ہونے والے سفید پنجوں اور فر کی کھال والے یہ دونوں بچے لگ بھگ تیس ہزار سال قدیم ہیں اور ان میں سے ایک تو بالکل نوزائیدہ حالت میں ہے ۔ برف میں منجمد ان بچوں کے نام یوآن اور دینا رکھے گئے ہیں جس کی وجہ تسمیہ ان کی دریائے یوآن دینا کے قریب سے برآمدگی بتایا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق موت کے وقت ان کی عمر ایک ہفتہ سے زیادہ نہیں تھی اور موت کی وجہ غالباً ان کی کچھار پر بھاری تعداد میں برف کا آگرنا تھا ۔ ابتدائی طور پر ماہرین نے انہیں دس ہزارسال قدیم قرار دیا تھا تاہم بعد میں تحقیق سے ان کی عمر 30 ہزار سال کے لگ بھگ معلوم ہوئی ۔یہ دونوں بچے آج کے نوزائیدہ شیر کے بچوں سے کم از کم دو کلو گرام زیادہ وزنی ہیں اور ان کی جسامت ایک بالغ گھریلو بلی جتنی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیر کے بچوں میں ابتدائی دنوں میں اعضائے رئیسہ واضح نہیں ہوتے لہٰذا یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ یوآن اور دینا نر ہیں یا مادہ ۔ حیرت انگیز طور پر ان کی دمیں ان کی جسامت سے 23 فیصد لمبی ہیں حالانکہ آج زمین پر موجود شیر کے بچوں کی دمیں ان کی جسامت سے 60 فیصد لمبی ہوتی ہیں ۔

Related posts