جمہوریت کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں، بلاول بھٹو


حیدر آباد(نیوزلائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے عمران خان اور نواز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو عوام کی کوئی فکر نہیں،ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں، اناڑی شخص کرکٹ گراؤنڈ سے باہر نہیں نکلا، سیاست گالم گلوچ کا نام نہیں، میاں صاحب پروپیگنڈے کے ماہر ہیں ، اپنے خاندان کو بچانے کی خاطر ملک کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں،، پاکستان پیپلز پارٹی کو جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی،جب بھٹو پھانسی سے نہیں ڈرے تو بے نظیر موت سے کیسے ڈر سکتی تھیں؟ بے نظیر نے ہر جگہ آمروں اور دہشت گردوں کو للکارا، شیطانی قوتوں کے حملے میں انہیں شہید کیا گیا، جمہوریت کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں۔ ’’سانحہ کارساز‘‘ کے 10 سال مکمل ہونے پر حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے ایک بڑے’’ جلسہ عام ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایوب خان کی آمریت کا مقابلہ کیا،پی پی پی اپنے قیام سے لے کر آج تک آزمائشوں سے گزر رہی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی،شہید بھٹو کی عوامی اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا، پیپلزپارٹی کے جیالے ضیاء کی آمریت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کربلا برپا ہوتی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کو جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی، ہزاروں کارکن پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، بھٹو پسے ہوئے طبقات کے قائد تھے، شہید بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء نے سمجھا کہ اب پیپلزپارٹی ختم ہوگئی، اس وقت بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی کمان سنبھالی، جب بھٹو پھانسی سے نہیں ڈرے تو بے نظیر موت سے کیسے ڈر سکتی تھیں؟ بے نظیر نے ہر جگہ آمروں اور دہشت گردوں کو للکارا، شیطانی قوتوں کے حملے میں انہیں شہید کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہیدوں کی یاد منانے کے دوطریقے ہوتے ہیں،ایک طریقہ آنسو بہا کر سوگ منانا ہے جبکہ دوسرا سوگ منا کر قاتلوں کو بے نقاب کرنا ہے ۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جیالے پھانسی کے تختے پرجھول گئے،انہوں نے خودسوزی کر کے قربانی کی داستان رقم کی، ملک میں عوامی حکومت قائم کی، جمہوریت بحال کی، ایک طرف پیپلزپارٹی تھی دوسری طرف آمریت کی گودمیں پلنے والی پارٹیاں، کبھی آئی جے آئی بنائی گئی،کبھی مخالفین میں پیسے بانٹے گئے،حکومتیں ختم کی گئیں، میڈیاٹرائل کیا گیا،آمر سمجھ رہا تھا کہ کوئی آمریت کوچیلنج نہیں کرے گا لیکن آمر غلط ثابت ہوا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو جلاوطن کر کے عوام سے دور کیا گیا،جب بی بی اپنے وطن اور عوام کے پاس آرہی تھیں، جیالے بینظیربھٹوکے نعروں پررقص کررہے تھے، ملک کے کونے کونے سے لوگ کراچی میں جمع ہوئے تھے، عوام کا سمندر قائد کے استقبال کے لیے جمع ہو رہا تھا،یہ بھٹو کی بیٹی تھی، جب باپ عوام سے دور نہیں رہا تو بیٹی کیسے دور رہتی، باپ نے عوام کاساتھ نہیں چھوڑا توبیٹی کیسے عوام کا ساتھ چھوڑتی؟ باپ پھانسی سے نہیں ڈرا تو بیٹی موت سے کیسے بھاگتی؟۔انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ اورپی ٹی آئی کے پاس عوام کودینے کے لیے کوئی پروگرام نہیں، عوام کی کوئی فکرنہیں، اناڑی شخص کرکٹ گراؤنڈ سے باہرنہیں نکلا،سیاست گالم گلوچ کا نام نہیں، میں گالی نہیں دیتا نظریاتی سیاست پریقین رکھتا ہوں۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگ کرپشن کونعرے کے طورپراستعمال کرتے ہیں، ہماری جدوجہد اس نظام اوراستحصال کے خلاف ہے،میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب غریب ترہورہا ہے،کارخانے بند ہورہے ہیں،مہنگائی نے لوگوں کا جینا مشکل بنادیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میاں صاحبان کہتے ہیں کہ ترقی ہورہی ہے، پراجیکٹس وقت سے پہلے مکمل ہو رہے ہیں، ہمیں بتائیں سندھ میں وفاقی حکومت کے اکادکا پراجیکٹ مکمل کیوں نہیں ہوتے؟ ہم سے سپرہائی وے چھین کرکہا گیا کہ موٹروے بن رہا ہے، آپ کے نام نہاد موٹروے کی وجہ سے سوکے قریب افراد کی جانیں چلی گئیں،کراچی کی گرین لائن کا منصوبہ کہاں گیا؟وہاں صرف کھڈے نظرآتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میاں صاحبان جھوٹے پروپیگنڈیکے ماہر ہیں،باشعور عوام دیکھ رہے ہیں یہاں کیا ہورہا ہے، بی بی کی شہادت کے بعد ا?صف زرداری نے پارٹی پرچم کو گرنے نہیں دیا،پیپلزپارٹی جمہوری اورمنصفانہ معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں صاحب چار بار سندھ ا?ئے ہیں، اربوں روپے کا اعلان کر گئے،میاں صاحب نے تھرکے لیے دوارب کا اعلان کیا،کہاں ہیں وہ دوارب روپے؟ارے وفاق سے کچھ نہیں ملے گایہ صرف اعلانات ہوتے ہیں۔چیئرمین پی پی کہتے ہیں کہ ارسا کی غیرمنصفانہ تقسیم سے سندھ زیادہ متاثرہورہا ہے،سندھ کواپنیحصے کا پانی بھی نہیں ملتایہ کہاں کا انصاف ہے،جب پانی زیادہ ہوتا ہے تویہ دروازے کھول کرسندھ کوڈبودیتے ہیں، سندھ حکومت واٹر کورسز کو پکاکرنے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔بلاول کا کہنا ہے کہ تبدیلی والے خان صاحب ،ترقی والے میاں صاحب کے صوبوں میں ایک بھی نیا اسپتال نہیں بنا،ان سیپوچھتاہوں سندھ میں اکادکاپروجیکٹ کیوں مکمل نہیں ہوئے، یہ موٹرویجتنا بنا تھا وہ بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوگیا، نئے وزیراعظم نے ایم کیو ایم سے ووٹ لینے کے لیے 20 ارب روپے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میاں برادران کہتیہیں ترقی ہورہی ہے،پروجیکٹ وقت پرمکمل ہورہے ہیں،یہ صرف پیپلزپارٹی کی حکومت ہیجوسندھ میں کام کرتی ہے،میاں صاحب اورخان صاحب سندھ میں آکرکہتے ہیں یہ کھنڈربن گیا، سندھ کوشاہ لطیف کی دعا ہے کبھی کھنڈرنہیں بن سکتا، البتہ آپ کی سیاست ضرور کھنڈر بن جائیگی۔بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ سندھ میں سب ٹھیک ہوگیا ہے،یہاں کام بھی بہت ہوا، مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،حیدرآباد میں سڑکوں کی حالت بہتر ہورہی ہے۔

Related posts

Leave a Comment