جنرل راحیل شریف کو ریٹائر منٹ کے بعد مراعات

راولپنڈی(نیوزلائن)دیگر سول محکموں کی طرح فوج میں بھی سینیئر عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افسران کو چند اضافی مراعات دی جاتی ہیں ،اسی تناظر میں ریٹائر ہونے والے موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات دی جائیں گی۔برطانوی نشریاتی ادارےکے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت پاکستانی فوج میں بھی سروس، رینک اور مدتِ ملازمت کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران اور جوانوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف سہولیات دی جاتی ہیں۔پینشن اور طبی سہولیات ان مراعات کا لازمی حصہ ہیں لیکن پاکستانی فوج میں علاج معالجے کے لیے عہدے کی کوئی قید بھی نہیں۔ملک کے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی بھر کے لیے تین اہلکار یعنی ذاتی اسسٹنٹ، آپریٹر اور ڈرائیور دیے جاتے ہیں،یہ اہلکار ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی ہو تے ہیں۔آرمی چیف کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے سابق ایجوٹینٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ عام طور پر فور سٹار جنرلز کو عمر بھر کے لیے سکیورٹی نہیں دی جاتی، تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد جب تک انٹیلی جنس ادارے کلیئرنس نہ دیں، ان کے ساتھ فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کی سکیورٹی موجود رہتی ہے۔ قوانین کے تحت تمام فوجی اور سول سرکاری افسران کی طرح فور سٹار جنرلز کو بھی ایک پلاٹ لیز پر دیا جاتا ہے جہاں وہ گھر تعمیر کر سکتے ہیں اور یہ عموماً 16 سو گز کا ہوتا ہے۔تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنا یہ پلاٹ پہلے ہی شہداءفنڈ کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کو ان کے عہدے کی مناسبت سے عمر بھر کے لیے آفیشل پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔یہ سہولت ملک کے تمام وزرائے اعظم اور دیگر اعلیٰ ترین سول افسران کو بھی حاصل ہے۔ریٹائر ہونے والے فور سٹار جنرلز کو بیرون ملک سفر کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور وہ ہر اس ملک کا سفر کر سکتے ہیں جہاں دیگر پاکستانی جا سکتے ہیں۔

Related posts