جنسی حراساں کیخلاف آواز اٹھانے پر خاتون سرکاری افسر نوکری سے فارغ

فیصل آباد(نیوزلائن)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خواتین کو ملازمت کی جگہ پر جنسی حراساں کرنے سے تحفظ دینے کے دعوے بے بنیادثابت ہوگئے ۔پنجاب تحفظ خواتین کمیشن بھی بااثر بیوروکریسی کے سامنے بے بس نکلا۔ ملازمت پیشہ خواتین کو جنسی حراساں کرنا اور انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا صوبہ بھر میں معمول کی سرگرمی بن گئی۔ کم تعلیم یافتہ اور حقوق سے ناآشنا خواتین تو ایک طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی جنسی حراساں کی جارہی ہیں اور انہیں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خود کو جنسی حراساں بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھانے اور پنجاب کمیشن برائے تحفظ خواتین کو شکائت کرنے پر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی پی آر او عائزہ بٹ کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ اور نوکری سے فارغ کرنے والا وہی ہے جس کے خلاف تحفظ خواتین کمیشن کو شکائت کی گئی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی پی آر او عائزہ بٹ کو گزشتہ کئی ماہ سے ایف ڈبلیو ایم سی کے نئی تعینات ہونے والے ایم ڈی عماد گل اور ان کے بعض چہیتے افراد کی طرف سے لڑکی ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ایم ڈی عماد گل کے خلاف عائزہ نے پنجاب تحفظ خواتین کمیشن کو شکائت کی تا ہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن نے عماد گل اور دیگر ملزمان کے خلاف کوئی ایکشن گوارہ نہ کیا جبکہ شکائت کے باوجود ایف ڈبلیو ایم سی کے سابق چیئر مین ایم این اے اکرم انصاری اور موجودہ چیئرمین میئر فیصل آباد رزاق ملک نے جنسی حراساں کرکے خاتون ورکر کی زندگی عذاب کرنے والے بااثر ایم ڈی کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت کی۔ عائزہ بٹ ایک طرف تو جنسی حراسگی اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرتی رہی اور دوسری جانب پنجاب کمیشن برائے تحفظ خواتین میں اپنی درخواست کی پیروی بھی کرتی رہی ۔ مسلسل کئی ماہ تک کمیشن نے کوئی کارروائی نہ کی اور ملزمان کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔ کمیشن کی بے بسی اور غیر موثر ہونے کو ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی عماد گل نے بھی جان لیا اور چند روز قبل عائزہ کو نوکری سے ہی فارغ کرکے ’’مدّا‘‘ ہی غائب کردیا۔

Related posts

Leave a Comment