جہانگیر بدر!اپنی زمین سے جڑا ہوا ایک شخص

سیاست کوئی آسان کام نہیں ہے، ان لوگوں کے لئے تو بالکل آسان نہیں جنہوں نے فلرٹیشن نہیں کرنی بلکہ ایک نظریے اور ایک پرچم تلے رہتے ہوئے اس راستے کی مشکلات صبر اور حوصلے سے برداشت کرنا ہے۔ جہانگیر بدر ایک ایسے ہی سیاست دان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب سیاست میں آئے تو ان کی شخصیت کی دلکشی اور انقلابی نعروں سے نوجوان ان کی طرف کھنچے چلے گئے۔ سیاست میں کسی نے پہلی بار پسے ہوئے طبقوں کو ان کے حقوق دلانے کے حوالے سے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا چنانچہ ان طبقوں کو بھٹو کے حوالے سے امید کی ایک کرن نظر آئی اور وہ ان کی طرف کھنچے چلے گئے۔ ان میں جہانگیر بدر بھی تھے جو ایک سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب پی پی پی کی قیادت اور کارکنوں پر برا وقت آیا تو جہانگیر بدر ان لوگوں میں شامل تھے جو پوری استقامت کے ساتھ اپنے لیڈر کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے رہے، انہوں نے ہر طرح کی سختیاں جھیلیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی اور یہی بات پارٹی کے اندر اور پارٹی کے باہر ان کی قدرومنزلت میں اضافہ کا باعث بنی۔
جہانگیر بدر کا جنازہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انسان نے اگر اپنوں سے بے وفائی نہ کی ہو تو غیروں کے دل میں بھی ان کے لئے عزت اور محبت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ جنازے میں پی پی پی کے رہنمائوں اور کارکنوں کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے بھی بھاری تعداد میں شرکت کی۔ جو لوگ اپنی کسی نجی وجہ سے شریک نہ ہوسکے، انہوں نے بھی ان کی موت کا دکھ محسوس کیا۔ جہانگیر بدر ’’اصلی تے وڈے‘‘ لاہوریے تھے، اندرون شہر کے لاہوریے! جو ’’ر‘‘ کو ’’ڑ‘‘ بولتے ہیں اور یوں جہانگیر بدر، جہانگیر بدر نہیں جہاں گیر ’’بدڑ‘‘ تھے۔ ان کی شخصیت میں وہی بے تکلفی اور اپنا پن تھا جو لاہوریوں کا خاصا ہے۔ وہ منکسر مزاج تھے، نہ کوئی اکڑ، نہ کوئی پھوں پھاں، وہ بڑے بڑے عہدوں پر بھی رہے مگر ان کے رویوں میں کبھی رعونت کی جھلک تک نظر نہیں آئی، یار لوگ ان کی بول چال اور دیسی لب و لہجہ کا مذاق اڑاتے تھے، ہمارے ہاں اگر کوئی منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی نہ بولتا ہو تو وہ ان طبقوں کو بھی ’’وارا‘‘ نہیں کھاتا جو اردو بھی صحیح طرح نہ بول سکتے، ہم لوگ شاید احساس کمتری میں مبتلا ہیں، جہانگیر کو غالباً اس کا احساس تھا چنانچہ انہوں نے ایم اے اور ایل ایل بی کے علاوہ پی ایچ ڈی بھی کر کے دکھائی اور ’’مور اوور‘‘ کے طور پر انگریزی میں ایک کتاب بھی لکھی، بلکہ پریس کانفرنسوں میں انگریزی ہی بول کردکھاتے تھے۔ کافی عرصے سے پی پی پی کی قیادت ان سے دور ہو چکی تھی او ر وہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کررہے تھے۔ میرے ایک دوست کے بقول جہانگیر بدر اسی روز مر گیا تھا جب اس کی جگہ منظور وٹو کو پنجاب کی قیادت سونپی گئی تھی۔ اس کے باوجود وہ آخری سانسوں تک اپنی پارٹی کے وفادار رہے اور ’’اختلافات‘‘ کو بہانہ بنا کر کسی برسراقتدار پارٹی میں شامل نہیں ہوئے۔
جہانگیر بدر کے ساتھ میرے کوئی قریبی مراسم نہیں تھے، محفلوں میں ان سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی اور وہ بہت تپاک سے ملتے۔ یہ ان کی ایک اور اضافی خوبی تھی، میرے ان کے نظریات آپس میں میل نہیں کھاتے تھے مگر وہ نظریاتی ہونے کے باوجود ذاتی تعلقات کو اہمیت دیتے تھے، میرا معاملہ بھی یہی ہے، میرے دوستوں میں کتنے ہی ایسے دوست ہیں اور وہ بہت قریبی دوست ہیں جن سے میرا نظریاتی قارورہ نہیں ملتا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر بدقسمتی سے ان دنوں ایک ایسا طبقہ ہمارے درمیان پیدا ہوگیا ہے جو طالبانی رویوں کا حامل ہے یعنی اگر تم مجھ سے اتفاق نہیں کرتے تو میں تمہارا دشمن ہوں، ذرا بچ کے رہنا۔ یہ طبقہ پاکستانیوں میں باہمی نفرت کے بیج بو رہا ہے۔ جہانگیر بدر ایسے نہیں تھے، میں اس روز بہت حیران ہوا جب میرے بھائی جان ضیاء الحق قاسمی فوت ہوئے اور میں نے اپنے ہاں ان کے قلوں کا اہتمام کیا تو جہانگیر بدر سب سے پہلے آنے اور سب سے آخر میں جانے والوں میں سے تھے۔ یہی ہماری قدریں ہیں اور ہم نے اپنی قدروں کی حفاظت کرنی ہے، اللہ تعالیٰ جہانگیر بدر کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند کرے، میں اپنے دل کو اس شخص کی یاد سے آباد رکھوں گا جس کی جڑیں اس کی اپنی زمین میں تھیں

عطاالحق قاسمی

Related posts