جیلوں کی ناقص غذا اور پانی موت بانٹنے لگا‘20قیدی زندگی ہار گئے


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد کی جیلوں میں ناقص غذا‘ مضر صحت پانی اور گھٹن زدہ فضاء قیدیوں کو بیماریوں کا شکار کر رہے ہیں۔ علاج معالجے کی نامناسب سہولیات دائمی بیماری اور موت کا شکار کئے جانے کا سبب بنتی جارہی ہے۔ ایک سال کے دوران فیصل آباد کی دونوں جیلوں میں 20افراد بیماری اور نامناسب سہولیات کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی دونوں جیلوں میں سال 2017کے دوران 20افراد معمولی نوعیت کی بیماریاں سنگین ہونے کی وہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ سنٹرل جیل فیصل آبادمیں 15جبکہ ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں پانچ قیدی موت کا شکار ہو کر ہمیشہ کیلئے جیل کی سنگلاخ دیواروں سے نکل گئے۔ جیل حکام کے مطابق سنٹرل جیل فیصل آباد میں مشتاق احمد،بابرعلی،فخرالنبی ،احمدشیر ،محمد آصف،یاسین ،عباد، محمد جاوید ،قاری وقار ،محمد کاشف،محمد ایوب،جہانگیر،زاہد،محمد افضل اور بشیر احمدبیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہارے۔ ڈسٹرکٹ جیل میں محمد رمضان ،شوکت علی،نورحیات،علی ظفر اورشوکت حسین بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔جیل حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کو سنگین نوعیت کی بیماری نہ تھی۔ معملی نوعیت کی بیماریاں تھیں جو وقت کیساتھ سنگین شکل اختیار کرتی گئیں۔ نیوزلائن کے مطابق معمولی نوعیت کی بیماریوں کا سبب جیلوں میں کھانے پینے کی ناقص اشیاء اور مضر صحت و زہریلا پانی بتایا جاتا ہے۔ جیلوں کی سیلن زدہ ماحول اور گھٹن زدہ فضاء بھی بیماریوں میں اضافے اور مرض کے سنگین نوعیت اختیار کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ دونوں جیلوں میں علاج معالجے کی مناسب سہولیات نہ ہونے سے بھی قیدیوں کی بیماری سنگین نوعیت اختیار کرتی گئی۔بیمار کو علاج معالجہ نہ ملا اور موت کا شکار ہونے تک ان مرض سنگین ہوتا گیا جو موت کے منہ میں جانے کا سبب بنا۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد کی دیگر جیلوں میں بھی صورتحال اسی طرح کی ہے اور ہر جیل میں علاج معالجے کی سہولیات انتہائی نامناسب اور کھانا انتہائی ناقص و مضر صحت جبکہ پینے کا پانی بھی غیر صحت مند اور بیماریاں بانٹنے والا ہے۔

Related posts