جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکے گارڈز کا طلباء پر تشدد‘ مار مار کر ادھ موا کر دیا


gcuf-issue
فیصل آباد(نیوز لائن)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے گارڈز نے ایک ہی دن تین مختلف واقعات میں یونیورسٹی کے ہی چار طلباء کوبری طرح تشدد کا نشانہ بنا کر ادھ موا کردیا۔ ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز‘ پی آر او‘ رجسٹرار‘ وائس چانسلر سمیت تمام حکام تشدد ہونے کے واقعات‘ ان کی وجوہات اور عوامل سے لاعلم نکلے۔نیوز لائن کے مطابق تشدد کے واقعات بدھ کے روز جی سی یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں پیش آئے۔پہلے واقعہ میں گارڈزکے ایک گروپ نے کار پارکنگ کے قریب ایک طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا اور ایڈوانس سٹڈیز آفس تک تشدد کرتے اور گھسیٹتے ہوئے لائے۔تشدد کرنے والے گارڈز کا مؤقف تھا کہ مذکورہ طالب علم لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔دوسرا واقعہ یونیورسٹی میں ہونیوالے”جاب فیئر“کے قریب پیش آیا جہاں گارڈز نے ایک طالب علم کو محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا کہ وہ راہ چلتے ہوئے ایک گارڈ سے ٹکرا گیا تھا۔گارڈز کے طالب علموں پر تشدد کرنے کا تیسرا واقعہ میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز کے آفس کے عین سامنے پیش آیا۔ جہاں گارڈز کے ایک گروپ نے باقاعدہ تعاقب کر کے اور ہنگامہ برپا کرکے دو لڑکوں کو پکڑا۔ ریس کے دوران گارڈز اونچی آواز میں لڑکوں اور پکڑنے میں مدد کیلئے شور بھی مچاتے رہے۔تعاقب اور شور سے وہاں باقاعدہ ہنگامہ برپا ہو گا۔ جدوجہد کرکے پکڑنے کے بعد گارڈز نے اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیورسٹی آئے دونوں طالب علموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چیف سکیورٹی آفیسر کے حضور پیش کرنے کیلئے لے گئے۔چیف سکیورٹی آفیسر کے آفس میں چیف سکیورٹی آفیسر کے سامنے دونوں لڑکوں کی دوبارہ سے تھپڑوں سے خوب تواضع کی گئی۔بعد ازاں سکیورٹی آفیسر نے چند طالبات کو بھی اپنے آفس میں بلا لیا اور ان کے سامنے بھی طلباء کی تشدد سے خاطر داری کی گئی۔اس بارے میں رابطہ کرنے پر سامنے آیا کہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز اپنے آفس کے سامنے برپا ہونے والے ہنگامے سمیت طلباء پر تشدد کے تینوں واقعات سے سرے سے لاعلم ہیں۔یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر افتخار کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ڈسپلن کو قائم رکھنے اور طلبہ کو قابو میں رکھنے کیلئے ہلکا پھلکا تشدد کرنا ہماری مجبوری ہے۔نیوز لائن کے رابطہ کرنے پر جامعہ کے ترجمان عبدالقادر مشتاق کا کہنا تھا کہ گارڈز کا طلباء پر تشدد کرنا مناسب نہیں ہے مگر ایسے واقعات پرگارڈز کے خلاف اسی وقت ایکشن لیا جا سکتا ہے جب کوئی طالب علم اس کی باضابطہ شکائت کرے۔یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر غلام غوث کا کہنا تھا کہ جسمانی تشدد کی کسی طور بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔گارڈز کا کسی طالب علم پر تشدد کرناکسی طور بھی قابل معافی نہیں چاہے اس کی کوئی بھی وجوہات ہوں۔ ان واقعات کی فوری انکوائری کروائی جائے گی۔ جس نے بھی ایسا کیا ہے اسے سخت سزا ملے گی۔

Related posts