جی سی یونیورسٹی نے نوٹ کمانے کیلئے بوگس ڈگریاں دیدیں


فیصل آباد(عاطف چوہدری)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے ’’نوٹ ‘‘ کمانے کیلئے بوگس ڈگریاں جاری کردیں۔ ایچ ای سی یونیورسٹی کی جاری کردہ ڈگریوں کی تصدیق کرنے سے انکاری ہے اور بھاری فیسوں اور سالوں کی محنت کے بعد ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے طلباء و طالبات کوبوگس ڈگریاں جاری کردیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں جاری ہونے والی یہ بوگس ڈگریاں طلبہ کیلئے ردی کاغذ سے زیادہ ثابت نہیں ہو رہیں۔بھاری تعداد میں یہ بوگس ڈگریاں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کے دور میں جاری کی گئی ہیں جبکہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر کے دور کی جاری کردہ ڈگریاں بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔بوگس ڈگری سکینڈل میں یونیورسٹی کے متعدد افسران کے بھی ملوث ہیں ۔مستقل کنٹرولر امتحانات سے محروم جامعہ کے ایڈیشنل کنٹرولر ایگزامینیشن شفقت محمود اس معاملے میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ سابق ایڈیشنل کنٹرولر ڈاکٹر زبیر کا نام بھی اس سلسلے میں لیا جا رہا ہے۔ڈائریکٹر فاصلاتی تعلیم ڈاکٹر نعیم محسن براہ راست بوگس ڈگری معاملے میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ایچ ای سی نے طلبہ کی ڈگریوں کو غیرتصدیق شدہ ڈکلیئر کیا ہوا ہے اور ایچ ای سی سے تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ ان ڈگریوں کی بنیاد پر اندرون و بیرون ملک مزیداعلیٰ تعلیم کیلئے داخلے نہیں لے پا رہے ۔ جبکہ سرکاری و غیرسرکار ی اداروں میں بھی ان ڈگریوں کو بوگس قرار دیکر امیدواروں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ایک سرکاری یونیورسٹی کی ڈگری کے تصدیق نہ ہونے سے متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں ۔ یونیورسٹی نے یہ ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء و طالبات سے فیس کے نام پر بھاری رقوم حاصل کی ہیں جبکہ طلبہ نے ڈگری کیلئے فیس کیساتھ کئی سالوں کی محنت بھی یونیورسٹی کے نام کی ہے۔ بوگس قرار دی گئی ڈگریوں میں ماسٹرز آف سائنس کے علاوہ ماسٹر آف فلاسفی کی ڈگریاں شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے چانسلر گورنر پنجاب رفیق رجوانہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بوگس ڈگریوں کے اجراء پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی‘ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر‘ ایڈیشنل کنٹرولر شفقت محمود‘ ڈائریکٹر فاصلاتی تعلیم نعیم محسن کیخلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related posts