حرامزادے ملازم۔۔۔۔۔۔۔۔۔


انھیں میڈیا کی کوئی خبر ہے نہ اینکرنگ کے بلند مقام کاپتہ۔۔۔یہ گھریلو ملازمین تو اسکرین پر ڈرامہ اور فلم ایکٹرز کو ٹی وی کی پہچان سمجھتے ہیں جن ایکٹرز کو صحافت یا ٹی وی جرنل ازم کی اخلاقیات کا کوئی اتاپتا نہیں ہوتا۔بس اسکرین پر آتےہیں اور بولتے چلے جاتےہیں کبھی ہیرو تو کبھی ولن کا کردار باآسانی کرلیتےہیں ۔۔کس کو خوش کرنا ہے کسے ناراض۔۔۔۔ بس پروڈیوسر انھیں اپنے اسکرپٹ کے مطابق بتا دیتا ہے اور یہ ایکٹرز اپنے اپنے ا نداز میں پرفارمنس دے دیتےہیں حتی کہ پتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ یہ ایکٹنگ پروڈیوسر کی ڈیمانڈ تھی۔
حرام زادے ملازمین پر دوبارہ آتےہیں انھیں کاروباری سیٹھوں، سرکاری افسران کے گھروں میں کام کرنے کا تو پتہ ہوتاہے لیکن دانشور میڈیا اینکرز کا خادم بننے کی تمیزبالکل نہیں ہوتی ۔۔یہ ملازمین عام بول چال تو کرلیتےہونگے لیکن ادب و آداب والی اسکرین پر بولی جانے والی صحافتی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے۔شائستہ لہجے ان کی سمجھ میں کہا ں۔۔۔
جن اینکرز کے آگے ملکی سیاستدان اور ریاستی افسران ہر شام کو اپنی پینٹیں گیلی کروا کر، یہ احساس دے کر جاتے ہوں کہ ان کا انٹرویو لینے والا بغیر پڑھے بھی عقل و دانش کا پیکر ہے ایسے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا ان حرام ذادے ملازمین کےلئے اعزاز سے کم نہیں تو اور کیا ہے بلکہ اسے ایک ڈگری کہنا بھی غلط نہ ہوگا۔
انھیں یہ بھی پتہ نہیں کہ اینکرز جو روزانہ رات قانون سازوں کا قانون بناتےہیں ۔ان کے ہاں ۔اپنی مرضی سے نوکری کرنے اور چھوڑنے کا قانون نہیں ہوتالیکن ایسی کوئی چڑیا اڑتی ہوئی آبھی جائے تو اس کی مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ اینکرز ہی ہوتے ہیں۔
عام گھروں میں ان حرام زادوں کو کھانا پینا اور اے سی کی ٹھنڈی ٹھار ہوا میں سونا مفت ملتا ہوگا لیکن اینکر اور خصوصا فی میل اینکر کے ہاں کی ان چیزوں کی قدروقیمت میں بڑا فرق ہوتاہے پھر بھی یہ ایسا کہنے کی مجال کیسے رکھتےہیں کہ “بس ہمیں آپ کے گھر کام نہیں کرنا”۔۔۔جیسے سیاستدانوں سے زیادہ سیاست کا پتہ ہے حکومت سے زیادہ حکمرانی کا اور صحافیوں سے کہیں زیادہ صحافتی ڈاکٹراین کا ۔۔۔اسی طرح انھیں ملازمین کی ملازمت کا بھی ان سے زیادہ علم ہے کہ کہاں کرنی ہے اور اگر نہیں کریں گے تو ظاہر ہے ہمارے ملک میں اینکر اور گھریلو ملازمہ برابر تو نہیں نا۔
پڑھے لکھے عوام ہمارے نیوز چینلز سےعموما نفرت کا اظہار کرتے نظر آتےہیں یقین کرلیں وہ نفرت بھی ایسے اینکرز کی وجہ سے ہی قابو میں ہے ورنہ تصویر کچھ اور ہی ہوتی ۔۔۔
ایسا بھی نہیں کہ ہمارے ملک میں ساری ٹی وی اسکرینوں پر آنے والے اینکرز خود کو عقل کل سمجھتے ہیں بلکہ کچھ باقاعدہ صحافتی نظام کی پیداوار ہیں گزشتہ کئی کئی سالوں کے عینی شاہدہیں تحریر یں لکھ چکے ہیں اور آج تک پڑھتے ہیں کبھی رپورٹریا ایڈیٹر تھے ڈاکٹر یا ڈانسر نہیں ۔ خبر کے وزن کو اٹھانا اس کے توازن کو برقرار رکھنا ۔سرکاری اداروں کے ورکنگ کو سمجھ کر تیاری سے انٹرویو کےلئے آنا ۔۔ کون سی بات پہلے اور کون سی بات بعد میں کرنا ہیں انٹرویو میں کن راہوں پر چل کر خبر نکلے گی جو ناظرین کےلئے جاننا ضروری ہو سکتاہے ۔
ہماری ٹی وی نیوز انڈسٹری کے نظا م کابڑا المیہ یہ ہے کہ چینلز کی نمائندگی کچھ ایسے اینکرز کو دے دی گئی ہے جن کا دور دور تک صحافت یا صحافتی اقدار سے کوئی تعلق ہی نہیں اور جو باقاعدہ صحافی ہیں ان کے پاس اسکرین کا کنٹرول نہیں ۔۔اب جو دکھتاہے وہ بکتاہے ۔
حرام زادے کا لفظ ہرگز غیر مناسب ہے اور صحافتی زبان کا حصہ بھی نہیں اور نہ کسی غریب کو ایسا لکھنے یا کہنے کی میری اوقات ہے لیکن یہاں اس کا استعمال ایک گھناونے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں ایک اینکرصحافیوں کی لکھی نیوز پڑھتے پڑھتے پروگرام کرنے لگی اور سیاستدانوں کے چند ایک بھونڈے انٹرویو کرکے صحافت کی لاڈلی بن بیٹھی اور پھر گھر میں حرام زادوں کو خدمت کے لئے بھی رکھ لیا اور اس کے گھر میں حبس بے جا میں رکھی ایک پندرہ سالہ ملازمہ لڑکی بازیاب کی گئی ہے ۔ان کی کال ریکارڈنگ نہ ہوتی تو یقینا یہ اسکرین پہ غریدہ نہیں شائستہ ہی ہوتیں۔

ندیم زعیم

Related posts

Leave a Comment