حکمرانوں کے جاہ و جبروت کی نشانی‘ زمانے کی ناقدری کا شکار


ahramاہراموں کی تعمیر پُرانی بادشاہت کے دور میں منظر عام پر آئی تھی (2613 قبل از مسیح)۔ یہ تیسرے شاہی سلسلے کا فرعون ڈجوسر تھا جس نے پتھروں سے اہرام تعمیر کروایا اور اس نے اہرام کی دیواروں کو سیڑھیوں کی شکل میں ترتیب دیا۔ یہ دیواریں 60 میٹر (196.8 فٹ) بلند تھیں۔ تیسرے شاہی سلسلے کے فرعون سنی فیرو نے بھی مخروطی شکل کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ اسی فرعون نے اہرام کے نظریے کو نئی طرز عطا کی اور اس کی سیڑھیوں کو پُر کرتے ہوئے اسے ہموار مخروطی شکل عطا کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اہراموں کے سائز میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ بڑے بڑے اہرام منظر عام پر آنے لگے۔ یہ فرعون… جن کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں… اپنی زندگی میں اہراموں کی تعمیر مکمل ہوتے نہ دیکھ سکے۔ ان اہراموں کی عظیم عمارات ہزاروں مزدوروں نے بڑے بڑے پتھروں سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ ان پتھروں کا وزن اڑھائی ٹن تک تھا۔ ایک بڑے اہرام کی اونچائی 156.59 میٹر (514.6فٹ) ہے۔ اب یہ چند فٹ کی حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ اس کی بنیاد 230 میٹر (754.5 فٹ) مربع ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھروں کے 2,300,000 بلاک استعمال ہوئے تھے اور شمالی جانب اس کا داخلی راستہ سطح زمین سے 18 میٹر (59.04 فٹ) اونچا ہے۔ ایک برآمدہ ایک زیر زمین چیمبر کی جانب جاتا ہے جہاں سے ملکہ کے چیمبر اور اس کے بعد بادشاہ کے چیمبر تک رسائی ممکن ہے ۔ اہرام ، بڑے بڑے مقبرے ، اس سے بڑے مقبرے شاید ہی منظر عام پر آئے ہوں ، ان مقبروں میں مصر کے فرعونوں کی لاشیں محفوظ کی جاتی تھیں ۔ یہ مقبرے قدیم مصری تہذیب کی تمام تر قوت کی واضح علامات تھے ۔ یہ تہذیب جو 4,000 برس تک قائم رہی یہ آپس میں بے لوچ ، سخت اور کڑے مذہبی ڈھانچے میں بندھی ہوئی تھی اور یہ ڈھانچہ نہ صرف حکمرانوں بلکہ عوام پر بھی مکمل طور پر لاگو ہوتا تھا ۔ مذہبی پیشوا نہ صرف روحانی زندگی کے کرتا دھرتا تھے بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی ان کو برابر عمل دخل حاصل تھا۔ وہ حکومتی مشیر بھی تھے اور سائنس دان بھی تھے۔ وہ ایک لحاظ سے اس سول سروس کے رکن تھے، جس کا کام ایک قائم شدہ معاشرے کو محفوظ بنانا تھا اور اس معاشرے کو جاری و ساری رکھنے کا بندوبست سر انجام دینا تھا۔ لہٰذا اہرام موت کی صورت میں وہی کردار سر انجام دیتے تھے جو کردار محلات زندگی کی صورت میں سر انجام دیتے تھے۔ محلات اپنے بڑے بڑے ستونوں اور مجسموں کے ساتھ لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے بنائے جاتے تھے۔ یہ محلات لوگوں کو ان کے حکمرانوں کی ان کی زندگی میں شان و شوکت اور قوت سے روشناس کرواتے تھے۔ اہرام بننے کے بعد ان کی شان و شوکت اور قوت سے روشناس کرواتے تھے۔

Related posts