حکومت کی انوکھی منطق : تین ہزار کمانے والا غریب نہیں


poors
اسلام آباد (نیوزلائن) پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں ، لیکن کیا کہنے سرکار کے جس نے غربت کا نیا پیمانہ ایجاد کرکے سب کو چکرا دیا ۔ وزارت منصوبہ بندی وترقی کے مطابق پاکستان میں اب تین ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص غریب نہیں ۔پاکستان میں غریب کون ہے ، سرکاری اعداد و شمار کا گھن چکر جاری ہے ، غریب کی حالت وہی مگر غربت کم ظاہر کرنے کے نت نئے فارمولے ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ماہانہ تین ہزار روپے کمانے والا شخص غریب نہیں ۔ سرکار کی انوکھی منطق ، وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے چند ماہ پہلے خط غربت سے نیچے آبادی کی شرح 39 فیصد بتائی ۔ پھر جانے کیا معجزہ ہوا کہ کچھ ہی ماہ بعد نئی رپورٹ میں یہ شرح تقریباً 10 فیصد کمی کیساتھ 29.5 فیصد پر آ پہنچی ۔تحقیق کی گئی تو پتا چلا غربت کم نہیں ہوئی ، اس بار فارمولا دوسرا استعمال ہوا ۔ جادوئی فارمولے کے مطابق اب پاکستان میں ماہانہ تین ہزار 30 روپے کمانے والے شخص کو بھی خط غربت سے اوپر قرار دے دیا گیا ۔ دوسری جانب غذائی قلت کی عالمی درجہ بندی دیکھیں تو 118 ممالک میں پاکستان 107 ویں نمبر پر ہے ، یعنی بنگلہ دیش سے بھی 17 درجے نیچے ۔ماہرین معاشیات کہتے ہیں پاکستان میں مسلہ وسائل کی کمی کا نہیں منصفانہ تقسیم کا ہے ۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے ذریعے غریبوں کی تعداد کم کرنے کے بجائے غربت کا خاتمہ کرنے لیے درست حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔

Related posts