حکومت کی ایک ہی”گھرکی“سے گھی ملز مالکان ڈھیر‘ ہڑتال مؤخر


kisan
لاہور(نیوزلائن)پنجاب حکومت کے آنکھیں دکھانے پر صوبہ بھر کے گھی ملز مالکان ہڑتال کی کال واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔ہڑتال کی کال واپس لیتے ہوئے انہیں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں اور اپنے خلاف کئے جانے والے ایکشن کا بھی خیال نہیں آیا۔نیوز لائن کے مطابق پنجاب کے گھی ملز مالکان نے یکم دسمبر سے ملک بھر میں گھی کی سپلائی بند کرنے اور گھی ملز میں ہڑتال کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔گھی ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران کے مابین اس معاملے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے میٹنگ کے دوران گھی ملز مالکان کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کا کوئی مطالبہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ حکومتی نمائندوں نے گھی ملز مالکان کی کسی بلیک میلنگ میں آنے سے انکار کر دیااور ان کے مطالبات سننے سے بھی انکار کر دیا۔ حکومت نے گھی ملز کے خلاف کارروائیا ں انتہائی حد تک سخت کرنے اور گھی ملز مالکان کو دی گئی مختلف مراعات واپس لینے کی بھی دھمکی دی جبکہ گھی کی سپلائی بند کرنے کی صورت میں گھی ملز کو سرکاری کنٹرول میں لینے تک کا عندیہ دے دیا۔ حکومت کی طرف سے سخت مؤقف آنے پر گھی ملزمالکان اپنے مطالبات تسلیم کروائے بغیر ہی ہڑتال کی کال واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔
kashmir
نیوز لائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ایک سروے میں سامنے آیا ہے کہ پنجاب کے گھی مینو فیکچررز سالہا سال سے عوام کو مضر صحت اور زہریلا گھی کھلانے میں ملوث تھے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کھلے عام زہریلا گھی فروخت کررہے تھے۔ اتھارٹی نے صوبہ بھر سے 71گھی و کوکنگ آئل کے نمونے لئے تو ان میں سے متعدد بڑے برانڈز سمیت 42برانڈز کا گھی و کوکنگ آئل غیر معیاری اور زہریلا ثابت ہوا۔ اتھارٹی نے ملز کو ان برانڈز کی مینو فیکچرنگ کردیا اور ان کی فروخت روکنے کیلئے نوٹسز جاری کر دئیے۔ حکومت کی طرف سے ایکشن ہوتا دیکھ کر گھی ملز مالکان سیخ پا ہو گئے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ متعلقہ ادارے کے ساتھ ڈیل نہ ہونے پر زہریلا گھی فروخت کرنے والے ملز مالکان نے ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ نیوز لائن کے مطابق گھی ملز مالکان نے اپنے زہریلے گھی کی فروخت کسی طور بند نہ اور ہر صورت غیر معیاری گھی کی فروخت جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے اوراس کیلئے براہ راست حکومت اور حکومتی اداروں کیساتھ بلیک میلنگ شروع کر دی۔ زہریلا گھی بنانے والے ملزمالکان نے اپنے دیگر مینو فیکچرر ساتھیوں کے ساتھ مل کردھمکی دی ہے کہ اس کیلئے وہ ہڑتال‘ مظاہرے‘ احتجاج‘ گھی کی سپلائی روکنے سمیت تمام آپشن استعمال کریں گے۔تاہم حکومت نے گھی ملز مالکان کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی سخت رویہ اپنایا۔ ان کے خلاف ایف بی آر‘ فوڈ اتھارٹی‘ محکمہ خوراک‘ ہیلتھ انسپکٹرز‘ لیبر ڈیپارٹمنٹ‘ محکمہ سوشل سکیورٹی اور دیگر محکموں کو حرکت میں لانے کی دھمکی دی جس پر گھی ملز مالکان ہڑتال کی کال واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔
soya
واضح رہے کہ جن کمپنیوں اور برانڈذ کا گھی غیر معیاری اور مضر صحت قرار دیا گیا ہے . گھی و کوکنگ آئل کے حوالے سے بڑا نام ”کسان گھی“ بھی غیر معیاری ہے اور انسانی جان کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔کشمیر کینولا آئل‘ شاہ تاج کوکنگ آئل‘ سویا سپریم کوکنگ آئل‘ صوفی سن فلاور کوکنگ آئل‘ تلو بناسپتی‘ شان کوکنگ آئل‘ شان بناسپتی‘ سمارٹ کوکنگ آئل‘ غنی کوکنگ آئل‘ کوکو بناسپتی‘ سویا سپریم بناسپتی‘ اولیو پریمیئم کینولا آئل‘ مومن کوکنگ آئل‘ معیار بناسپتی‘ مومن بناسپتی‘ سلوی سپینش اولیو آئل‘ سیزن بناسپتی‘ سن ڈراپ کوکنگ آئل‘ تلو کوکنگ آئل‘ مان بناسپتی‘ ناز بناسپتی‘ مالٹا بناسپتی بھی شامل ہیں
sufi

Related posts