خواجہ سرا ہونا ہی جرم بن گیا


khwaja-sara1
میں نہیں سمجھ پا رہی کہ میں کیا کہوں۔۔ میں واقعی بہت پریشان ہوں۔ یہ میرے لیے ایک صدمہ سے کم نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے میں ایک عجیب صورتحال میں ہوں جیسے ایک ناول ہو جس کوئی ہیرو نہ ہو اور سب ولن کا کردار نبھا رہے ہوں۔
یہ صرف میری حالت ہے جو کرائم سین سے کوسوں دور اپنے گھر میں بیٹھی بلاگ لکھ رہی ہوں۔ میں وہ خوف بیان کر رہی ہوں جو میں نے کچھ ویڈیوز دیکھنے کے بعد محسوس کیا۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں ایک گینگ کا بدمعاش ایک خواجہ سرا کو بری طرح پیٹ رہا ہے ۔ وہ اس پر ظلم و تشدد کر رہا ہے اور اسے بے عزت بھی کر رہا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص یہ ہمت نہیں کرتا کہ وہ اس ظلم کو روکے اور مظلوم کی مدد کرے۔ ویڈیو میں جولی نامی ایک خواجہ سرا اپنے اوپر ڈھائے گئے ظلم اور زیادتیوں کی داستان سناتا ہے ۔ اسے سیالکوٹ اور فیصل آباد میں جسمانی، جنسی اور جذباتی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اسے گینگ ریپ کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ وہ اپنا سکارف اتار کر دکھاتا ہے کہ اس کے بال تک نوچے گئے۔
اس نے بتایا کہ پاکستان کے ہر شہر میں ایسے گینگ موجود ہیں جو اتنے بڑے جرائم کرنے کے باوجود کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں۔ ہر کسی کو ان کے جرائم کا پتہ ہے لیکن کوئی ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتا۔ نیوز رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ غنڈے گرفتار کر لیے گئے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ انہیں کتنے عرصہ کے لیے قید کیا گیا ہے اور انہیں کیا سزا دی جائے گی۔ اس گرفتاری سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ یہ گینگسٹرز بہت جلد رہا ہو جائیں گے کیونکہ ان کے تعلقات سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔ ہم ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کی حفاظت نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی انہیں اپنے معاشرے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
جب کسی کمیونٹی کو اس طرح علیحدگی میں دھکیل دیا جائے تو اس کے خلاف ظلم وزیادتی کی وارداتیں کم نہیں ہو سکتیں بلکہ زیادہ ہو جائیں گی۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر میرا دل بہت دکھا ہے۔ جولی آنسو بھاتے ہوئے قوم سے سوال کرتی ہے کہ اگر ان کے گھر میں کوئی بچہ خواجہ سرا نکل mahwishآئے تو کیا وہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کریں گے؟ خواجہ سرا لوگ بھی آخر انسان ہوتے ہیں ۔ ان کا حق ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے پاکستان میں رہیں ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ انصاف ان کا حق ہے۔

مہوش بدر

Related posts