خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام مشتعل، پیسکو دفاتر پر حملے

پشاور(نیوزلائن)خیبرپختون خوا میں تحریک انصاف کے کارکنان بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف مشتعل ہوگئے اور انہوں نے واپڈا کے دفاتر پر حملے کرکے توڑ پھوڑ بھی کی۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان کا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج پرتشدد ہوگیا ہے اور کارکنان اپنے اپنے مقامی ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کی قیادت میں واپڈا کے دفاتر میں پہنچ گئے۔ گزشتہ روز رحمان بابا اسٹیشن کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے والے پی ٹی آئی کے ایم پی اے فضل الہیٰ ایک بار پھر رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پہنچ گئے لیکن اس بار انہیں انتظامیہ کی جانب سے شدید مزاحمت کرنا پڑی۔ فضل الہیٰ جب اسٹیشن کے اندر داخل ہوگئے تو ڈی ایس پی کے حکم پر گرڈ اسٹیشن کے گیٹ کو اندر سے تالے لگا دیئے گئے اور انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔ ایم پی اے کی رہائی کے لئے پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پہنچ گئی اور شدید احتجاج کیا گیا تاہم پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کرلیا۔ پولیس حکام کے حکم پر پیسکو انتظامیہ نے گرڈ اسٹیشن کا دروازہ کھول دیا جس کے بعد مظاہرین اندر داخل ہوگئے اور دھرنا دے دیا۔ ایم پی اے فضل الہیٰ کا کہنا تھا کہ پیسکو لوڈشیڈنگ کے معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور 8 گھنٹے کے بجائے زیادہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس پر میں عوام کے حقوق کے لئے نکلاہوں لیکن حکومت بھی ہمارا ساتھ نہیں دے رہی جب کہ مجھے گرڈ اسٹیشن میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاج آباد اور رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ دوسری جانب بٹ خیلہ میں تحریک انصاف کے ایم این اے جنید اکبر اور مشیر وزیراعلیٰ شکیل خان کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا پولیس کی جانب سے مظاہرین کو واپڈا کے دفتر کی جانے سے روکا گیا تو احتجاجی مظاہرہ پرتشدد ہوگیا۔ مشتعل احتجاجی مظاہرین نے واپڈا کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور دفتر میں موجود کرسیاں اور میز جلا دیئے جب کہ کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے۔ لیویز نے ایم این اے جنید اکبر اور مشیر وزیراعلیٰ کو گرفتار کرلیا اور مظاہرین کو منتشر کردیا گیا۔

Related posts