دانش سکولوں کی تعمیر میں اربوں روپے کی کرپشن


danish-2
فیصل آباد(نیوزلائن)پنجاب حکومت قومی خزانے کی بجائے۔۔۔لٹیروں کی محافظ بن گئی۔۔ دانش سکولوں کی تعمیر میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے کسی ایک بھی بیوروکریٹ،سرکاری ٹھیکیداریاان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف 6برس بعد بھی کارروائی نہ کی جاسکی۔جبکہ4 ارب 35کروڑ 45لاکھ روپے کی کرپشن پر مبنی152آڈٹ پیرے بھی ردی کا کاغذ بن گئے ہیں۔
نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت نے 2010میں دانش سکولز اینڈ سنٹر آف ایکسیلنس اتھارٹی ایکٹ 2010کے تحت صوبے کے 7شہروں چشتیاں بہاولنگر ،حاصلپوربہاولپور ،رحیم یارخان، ہرنولی میانوالی،جھنڈ اٹک،ڈی جی خان اور فاضل پور راجن پورمیں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے 14الگ الگ کیمپس قائم کئے ۔تاہم اتھارٹی کے کمزور کنٹرول کے ساتھ ساتھ اتھارٹی ہی کے افسروں، ڈی سی اوز، ٹھیکیداروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کی باہمی ملی بھگت سے قومی خزانے کو جی بھر کے لوٹا گیا۔اوراربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔ٹھیکیداروں کو انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس کی کٹوتی کے بغیر ادائیگیاں کی گئیں۔ میرٹ سے ہٹ کر پرائس ویری ایشن دی گئی۔کئی منصوبے خلاف ضابطہ اصل تخمینے سے 14فیصد زائد ریٹس پر الاٹ کئے گئے۔
دانش سکول گرلز اینڈ بوائز رحیم یارخان کی تعمیر کے لیے متعلقہ ڈی سی او نے 80کروڑ روپے کا پراجیکٹ،دانش سکول فار بوائز اینڈ گرلز ڈیر ہ غازی خان کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 46کروڑ روپے کا منصوبہ ، دانش سکول فار بوائز اینڈ گرلز ہرنولی میانوالی کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 35کروڑ روپے کے منصوبے،دانش سکول فار بوائز جھنڈ ضلع اٹک کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 30کروڑ روپے کا منصوبہ ،سنٹر فار ایکسیلنس فار بوائز اینڈ گرلز مظفر گڑھ کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 24کروڑ روپے کا منصوبہ ،دانش سکول فار گرلز ڈیر ہ راجن پورکی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 22کروڑ روپے کا منصوبہ ،دانش سکول فار گرلز چشتیاں بہاولنگر کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 22کروڑ روپے کا منصوبہ ،سنٹر فار ایکسیلنس فار بوائز جڑانوالہ ،فیصل آبادکی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 98لاکھ روپے کا منصوبہ،سنٹر فار ایکسیلنس پائلٹ سیکنڈری سکول فار بوائز سیالکوٹ کی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 7کروڑ روپے کا منصوبہ ،سنٹر فار ایکسیلنس گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک حافظ آبادکی تعمیر میں متعلقہ ڈی سی او نے 6کروڑ 95لاکھ روپے کا منصوبہ انتظامی اور تکنیکی منظوری کے بغیر الاٹ کیا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر دانش سکول حاصل پور ،بہاولپور نے انتظامی اور تکنیکی منظوری کے بغیر ہی 4کروڑ روپے کے منصوبے کی لاگت کو بڑھا کر 4کروڑ 48لاکھ روپے کرتے ہوئے ٹھیکہ الاٹ کردیا۔ڈی سی او اٹک نے دانش سکول فار بوائز اینڈ گرلز جھنڈ کی تعمیر کا6کروڑ 90لاکھ روپے کا ٹھیکہ میسرز شاہین کنسٹرکشن کمپنی کو دیا۔مذکورہ کمپنی 4کروڑ روپے کا کام کرنے کے بعد بھاگ گئی تو اتھارٹی نے کمپنی سے جرمانہ وصول کرنے ،اس کے اکاونٹ سے بقیہ کام کروانے اور کمپنی کا نام بلیک لسٹ کرنے کی بجائے سرکاری خزانے سے مزید 7کروڑ 78لاکھ روپے کا کام کروایا۔اسی منصوبے کے پیکج 4پر بھی مذکورہ کمپنی ناکام رہی اور 4کروڑ روپے کے منصوبے میں سے اڑھائی کروڑ روپے کا کام مکمل کرکے بھاگ گئی۔اور اتھارٹی نے پہلے کی طرح ساڑھے 4کروڑ روپے کا left overکام کمپنی کے خرچ پر کروانے کی بجائے قومی خزانے سے کروایا۔پرنسپل دانش سکول حاصل پور بہاولپور نے سکول کی تعمیر کے دوران سکول کی بجلی استعمال کرنے والے ٹھیکیدار سے10لاکھ روپے وصول کرنے کی بجائے بل سرکاری خزانے سے ادا کردیئے۔دانش سکول اتھارٹی نے رحیم یار خان میں سکول کے زرعی فارمز ایک کروڑ 51لاکھ روپے میں نیلام کئے اور پہلی قسط 50لاکھ روپے کی بجائے 33لاکھ روپے وصول کی ۔اور جواز پیش کیا کہ فصل ضائع ہوگئی تھی۔ڈی سی او فاضل پور،راجن پور نے سابق دانش سکول کے سابق پرنسپل سے غبن شدہ 51لاکھ روپے کی رقم وصول نہ کی ۔حالانکہ اتھارٹہ نے اسے کرپشن کے الزامات پر نوکری سے برخاست کیا گیا تھا۔ہرنولی میانوالی کے دانش سکول کے لیے کوٹیشن یا اخبار اشتہار کے بغیر ہی 95لاکھ روپے کی کھانے پینے کی اشیا کا ٹھیکہ دیدیا گیا۔ ڈی سی او ڈی جی خان نے 3کروڑ روپے کی رقم measurement bookمیں انٹری کے بغیر اور بک کے برعکس اد ا کردی۔ ڈی سی او چشتیاں نے 3کروڑ روپے کی رقم measurement bookمیں انٹری کے بغیر اور بک کے برعکس اد ا کردی۔فروری 2013سے مارچ 2014تک ڈی سی او راجن پورنے فاضل پور کے دانش سکول میں سیلف فنانس سکیم کے تحت پڑھنے والے بچوں سے 42لاکھ روپے کی بجائے16لاکھ روپے وصول کئے۔ڈی سی او راجن پور نے فاضل پور دانش سکول میں 16جنوری 2013سے 27مارچ 2013تک بچوں کے میس کے اخراجات کی مد میں14لاکھ روپے ادا کئے حالانکہ بچوں کے حاضری رجسٹر کے مطابق میس میں کھانا 22اپریل 2013سے شروع ہوا۔ڈی سی اورحیم یار خان نے دانش سکول کی تعمیر میں معاہدے کے مطابق ٹھیکیدار کو 20کروڑ روپے کی بجائے 34کروڑ روپے ادا کرکے قومی خزانے کو 14کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔جس سے منصوبے کی لاگت میں 55فیصد اضافہ ہوا۔ڈی سی اوبہاولنگر نے چشتیاں دانش سکول کی تعمیر میں معاہدے کے مطابق ٹھیکیدار کو 13کروڑ 41لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی بجائے15کروڑ 64لاکھ روپے ادا کرکے قومی خزانے کو ایک کروڑ 74لاکھ روپے کانقصان پہنچایا۔صوبائی ڈی جی آڈٹ (ورکس)نے کک بیکس اور کمیشنز سے ہٹ کر قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی بے ضابطگیوں کی چھان بین شروع کی تو4 ارب 35کروڑ 45لاکھ روپے سے زائدکرپشن کے 152آڈٹ پیرے سامنے آگئے۔لیکن 6برس گزرنے کے بعد بھی دانش سکولوں کی تعمیر کی آڑ میں قومی خزانے کو بے دریغ لوٹنے والے مافیا کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی

Related posts