ریاست کے قانون کو شکست ‘ وزیر قانون کی رشتے داری جیت گئی

اسلام آباد (نیوزلائن)ریاست کا قانون ایک صوبے کے وزیر قانون کے رشتے دارسے شکست کھا گیا۔ فیصل آباد میں زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ایماء پر یونیورسٹی کے گلو بٹ عملہ نے میڈیا ورکرز کر تشدد کا نشانہ بنایا۔پرتشدد کارروائی کے دوران سماء ٹی وی کے کارکن‘ دنیا نیوز کے ورکر‘ ایکسپریس نیوز کا کیمرہ مین‘ نیوزٹی وی کا کیمرہ مین اور متعدد دیگر میڈیا ورکرز زخمی ہوئے۔ میڈیا کی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ ڈالاگیا۔ صحافیوں نے اندراج مقدمہ کیلئے تھانہ میں درخواست دی ۔ دوسرے جانب وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے لائیو کہا کہ وہ وزیر قانون کے رشتے دار ہیں میڈیا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وزیر قانون کا نام درمیان کیا آیا پوری ریاستی مشینری جام ہو گئی۔ فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا اور ایف آئی آر کیلئے شرط رکھ دی کہ وائس چانسلر رانا اقرار کا نام درخواست میں سے نکالا جائے۔ ان کا نام نکالے بغیر ایف آئی آر نہیں دی جائے گی۔فیصل آباد کے صحافی ڈٹ گئے ۔ تین دن تک سڑکوں پر رہے۔ سول سوسائٹی نے بھی ان کا ساتھ دیا ملک بھرمیں اس افسوسناک واقعہ کیخلاف احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ مگر قانون کے رکھوالے ٹس سے مس نہ ہوئے اور ریاست کے قانون کی بجائے ایک صوبے کے قانون کی’’ جے جے کار‘‘ کا نعرہ بلند کئے رہے۔کراچی سے پشاور تک زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور احتجاج کا سلسلہ جاری تھا مگر تیسرے دن رات کے اندھیرے میں اچانک کچھ ایسا ہوا کہ فیصل آباد کے صحافی ’’چپ‘‘ ہو گئے۔ اندر کھاتے ہی تمام معاملات طے ہو گئے اور اچانک وائس چانسلر ایک نجی ٹی وی چینل کے آفس پہنچ گئے زبانی معافی تلافی ہوئی اورصحافیوں نے پہلے دن ہی پولیس کی طرف سے کیا ہوا مطالبہ تیسرے دن تسلیم کیا اور وائس چانسلر کے بغیر نئی درخواست دے کر یونیورسٹی عملے کے خلاف ایف آئی آر درج کروا لی۔سڑکوں پر ہونے والی لڑائی اچانک بند کمرے ( ایک نجی ٹی وی کے بیورو آفس)میں طے ہونے پرملک بھر میں صحافی برادری کیلئے سوالیہ نشان پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ملک بھر کے صحافیوں کو اس نجی ٹی وی چینل نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا اور لاہور میں اس نجی ٹی وی چینل کی مینجمنٹ پر ایسا کیا دباؤ آگیا تھا کہ اچانک فیصل آباد میں سب کچھ وائینڈ اپ کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے۔ فیصل آباد کی صحافی برادری اچانک بیک فٹ پر کیوں چلی گئی ۔کیا ریاست کے قانون سے صوبے کے وزیر قانون کی رشتے داری زیادہ طاقتور ہے۔

Related posts