ریکارڈ سٹریٹ کرائمز‘ پنجاب کے عوام عدم تحفظ کا شکار

lhr
لاہور(نیوز لائن) پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصہ سے سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کی بھرمار کے باعث صوبہ بھر کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ صورتحال سے آگاہ ہونے‘ اربوں روپے کے فنڈزاور کئی طرح کی فورسز بنائے جانے کے باوجود پنجاب پولیس سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہے۔جبکہ پنجاب حکومت کے کرتا دھرتا زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ کرنے میں ناکام ہیں۔

k
نیوز لائن کے مطابق ملک کی نصف سے زائد آبادی والے صوبہ پنجاب میں عوام سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے باعث شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔لاہور‘ راولپنڈی‘ فیصل آباد‘ ملتان‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ ساہیوال‘ سرگودھا سمیت صوبہ بھر میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں ہو شربا اضافہ ہوا ہے۔وارداتوں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ کئی ریکارڈ ٹوٹنے لگے ہیں۔مگر اس کے باوجود پنجاب پولیس سب اچھا ہے کی رپورٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کے کرائمز ڈیٹا‘ مقدمات کے اندراج اور خود پولیس کے ہی ون فائیو و سپیشل برانچ کی رپورٹوں میں ہی بہت زیادہ تضاد پایا جا تا ہے۔پنجاب کے عوام ایک طرف تو سٹریٹ کرائمز کے ہاتھوں تنگ ہیں تو دوسری جانب عوام کو یہ مشکل بھی درپیش ہے کہ ان کے مقدمات ہی درج نہیں کئے جاتے۔ون فائیو اور دیگر ایمرجنسی پوائنٹس پر اطلاع کے باوجود پولیس سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں پر اندراج مقدمہ سے گریزاں رہتی ہے
street-crimes
۔ذرائع کے مطابق سٹریٹ کرائمز کی صرف 25سے 30فیصد وارداتوں کے مقدمات ہی درج ہو پاتے ہیں جبکہ دیگر کے متاثرین کو پولیس خوار ہی کرتی رہتی ہے۔اس صورتحال کے باعث عوام بری طرح عدم تحفظ کا شکار اور اپنی نقل و حرکت محدود کرنے پر مجبور ہیں۔

Related posts

Leave a Comment