زرداری اور بلاول میں شدید اختلافات ‘ دونوں کی پالیسی میں بھی تضاد

اسلام آباد(حامد یٰسین)پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان پارٹی کو چلانے اور ملکی سیاست کے حوالے سے شدید اختلافات اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں جبکہ دونوں کی مسلم لیگ ن کی حکومت کے حوالے سے پالیسی میں بھی شدید تضاد ہے۔نیوزلائن کے مطابق بلاول بھٹو پی پی پی کو اپنے پر جوش انداز میں چلانا چاہتے ہیں اور پارٹی میں جوشیلے کارکنوں کو آگے لانے کے حامی ہیں۔ بلاول مسلم لیگ ن کے حوالے سے مفاہمتی پالیسی کے بھی شدید مخالف ہیں اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حامی ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی نئی تنظیم سازی میں بھی آصف زرداری سے مشاورت نہیں کی گئی ۔بلاول بھٹو نے تمام تنظیم سازی خود کی اوراس سلسلے میں آصف زرداری کی بجائے فریال تالپور‘ صنم بھٹو اور اپنی مشاورتی کونسل کے ارکان سے مشاورت کی اور ان کو اعتماد میں لے کر تنظیم سازی کی۔بلاول مسلم لیگ ن کی حکومت کو شروع سے ہی ٹف ٹائم دینے کے حامی ہیں تاہم آصف زرداری کے پارٹی میں اثرورسوخ کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے تاہم جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے حکومت کیلئے سخت الفاظ کا استعمال کیا اور مخالفانہ پالیسی اپنائی۔جبکہ صدر زرداری مفاہمت کے حامی ہیں اور مسلم لیگ ن کیساتھ مفاہمت کیساتھ چلنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ آصف زرداری کو بلاول کی جوشیلی سیاست سے بھی اختلاف ہے اور وہ انہیں جوش سے کام لینے سے روکتے رہے ہیں۔پی پی پی کو چھوڑ کر جانے والوں کی واپسی کے حوالے سے بھی بلاول اور آصف زرداری میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بلاول پی پی پی کے بھگوڑوں کی پارٹی میں واپسی کے بھی سخت مخالف ہیں تاہم انہوں نے زرداری اور دیگر مشاورتی مصاحبین کی وجہ سے اتنی ترمیم کی ہے کہ مشرف دور میں پارٹی چھوڑ جانے والوں کو واپس لے لیا جائے لیکن 2013کے بعد پارٹی کو خیر باد کہنے والوں کے وہ ابھی بھی سخت مخالف ہیں۔

Related posts

Leave a Comment