زرعی یونیورسٹی فیصل آباد’’ریاست کے اندر ریاست‘‘کیوں

فیصل آباد(نیوزلائن)زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے حکام نے یونیورسٹی کو پاکستانی قوانین سے بالاتر ادارہ بنا ڈالا۔مملکت خداداد میں ریاست کے اندر ایک ریاست کی ایک بہترین مثال جامعہ زرعیہ فیصل آباد بن چکی ہے۔ 9سال سے زائد عرصہ سے یونیورسٹی کو ایسے چلایا جا رہا ہے جیسے یہاں پاکستان کا کوئی قانون لاگو ہی نہ ہوتا ہو۔جامعہ زرعیہ کو ایک الگ’’ ریاست ‘‘بنانے کا آغازساڑھے 9سال قبل پنجاب کی وزارت قانون نے کیا۔ وزیر قانون نے اپنے چہیتے کزن کو جامعہ زرعیہ کا وائس چانسلر لگوانے کیلئے قانون سے کھلواڑ کرکے اس مشن کا آغاز کیا۔پروفیسر ڈاکٹر رانا اقرار احمد خاں کو وائس چانسلر لگوانے کیلئے چنا گیا جس وقت وزیر قانون نے ’’خادم اعلیٰ‘‘ کے سامنے ڈاکٹر اقرار کو ’’اپنے‘‘ خاص آدمی کے طور پیش کیا وائس چانسلر کیلئے اشتہار چھپ چکا تھا تاہم ڈاکٹر اقرار نے وی سی کیلئے درخواست دیدی تھی۔مگر میرٹ لسٹ بنی تو ڈاکٹر اقرار 65امیدواروں کی لسٹ میں 57ویں نمبر پر تھے۔ 56اعلیٰ تعلیم یافتہ ریسرچ سکالرز اساتذہ کو پس پشت ڈال کر ڈاکٹر اقرار کے نام وزیر قانون قرعہ نکال چکے تھے۔وزارت قانون نے ہائیرایجوکیشن کمیشن اور ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اختیارات بھی استعمال کرتے ہوئے بھرتی کینسل کرکے دوبارہ اشتہار دیا جس میں تمام شرائط تبدیل کرکے ڈاکٹر اقرار کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دینے کی کوشش کی گئی مگر وزیر قانون کے ہونہار کزن اس مرتبہ بھی ٹاپ ٹین میں جگہ نہ بنا سکے۔ اس بار 63امیدوار وائس چانسلر بننے کی دوڑ میں شامل ہوئے جن میں سے رانا اقرار 34ویں پوزیشن حاصل کر سکے۔ دوبارہ بھرتی کینسل کرکے تیسری مرتبہ اشتہار جاری کیا گیا ڈاکٹر اقرار کی بھرتی یقینی بنانے کیلئے تمام شرائط خود ڈاکٹر اقرار سے لکھوائی گئیں۔تمام متوقع امیدواروں کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر اقرار نے شرائط تیار کیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ دنیا بھر میں اپنی زرعی تحقیقات کے حوالے سے منفرد مقام رکھنے والی جامعہ کا وی سی ایسی شخصیت کو لگایا گیا جن کی زرعی میدان میں ایک بھی ریسرچ نہیں ہے۔’’سفارش ‘‘ کی سیڑھیوں سے کرسی حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے ملک کی بہترین یونیورسٹی کا حلیہ ہی بدل ڈالا۔ میرٹ کا قتل عام کرکے ’’سفارش‘‘کلچر عام کردیا۔ زرعی تحقیق پر فوکس کی بجائے جامعہ کو پیسہ بنانے والی مشین بنا ڈالا۔ڈگریوں کی لوٹ سیل لگا دی جبکہ درجنوں ایسی ڈگریوں کا اجراء کیا جس کا زراعت سے دور دور کا تعلق نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں وزیر قانون اور دیگر اہم شخصیات کی سفارش پر فیکلٹی اور نان فیکلٹی بھرتی کی بھرمار کر ڈالی۔ جامعہ کا سوسائٹی سے تعلق منقطع کرکے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو’’ریاست کے اندر ریاست‘‘بنا ڈالا۔ جامعہ میں کرپشن اور لوٹ مار کی بھرمار ہے مگر احتساب کرنے کو کوئی تیار نہیں انٹی کرپشن حکام زرعی یونیورسٹی میں ہونیوالی کرپشن پر انکوائری ہی نہیں کرتے جبکہ پنجاب حکومت کے چہیتے ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر اقرارہر قسم کے احتساب سے بچے ہوئے ہیں۔یونیورسٹی کے معاملات انتہائی خفیہ انداز میں چلائے جا رہے ہیں۔یونیورسٹی کے تمام کنٹریکٹ میں گھپلے سامنے آئے ہیں ۔ سفارش کلچریونیورسٹی کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔’’صرف داخلہ لو پاس خود ہی یونیورسٹی کردے گی ‘‘جامعہ زرعیہ کا عام تاثر بن چکا ہے۔ تحقیق کے میدان میں یونیورسٹی کوسوں دور جا چکی ہے ۔ تحقیق کے نام پر دوسروں کی ریسرچ چرانے کا عمل عام ہے۔ طویل عرصہ سے صرف اس لئے بھرتی رکی ہوئی ہے کہ’’ وزیر قانون ‘‘نے لسٹ فائنل نہیں کی۔سفارشی کلچر نے یونیورسٹی کا معیار تعلیم زیرہ کر دیا ہے۔ اساتذہ اندرونی سیاست میں مگن اور چاپلوسی کرکے عہدے حاصل کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔یونیورسٹی نے فروغ زرعی تعلیم اور تحقیق کی بہتری پر فوکس کرنے کی بجائے پیسہ کمانے کو اپنا اولین مقصد بنا رکھا ہے ایوننگ کلاسز ‘ شارٹ کورسز کے نام پر لوٹ ماراور ڈگریاں بانٹنے کا بازار گرم ہے ۔اساتذہ کی ترقیاں اور انتظامہ عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ کی بجائے وی سی کی چاپلوسی سے مشروط کردی گئی ہیں۔

Related posts

Leave a Comment