زرعی یونیورسٹی کے’’سرکاری گلو بٹوں‘‘کا میڈیا پر دھاوا‘ 18میڈیا ورکر شدید زخمی

فیصل آباد(نیوزلائن)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر کے حکم پر یونیورسٹی کے ’’گلو بٹ ‘‘عملہ نے میڈیا نمائندگان پر دھاوا بول دیا۔ مار مار کر میڈیا نمائندگان کا بھرکس نکال دیا۔18میڈیا ورکر شدیدزخمی ہوگئے جبکہ سماء ٹی وی کی ڈی ایس این جی اور کار کو ’’گلو بٹ ‘‘ گارڈز نے ’’گلو بٹ‘‘ سٹائل میں تباہ و برباد کر دیا۔نیوزلائن کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سامنے جامعہ کے مین گیٹ سے 100میٹر دور سماء ٹی وی کی فیصل آباد کی ٹیم ایک ایشو پر لائیو کوریج کر رہی تھی کہ یونیورسٹی کا سکیورٹی انچارج ہارون زمان اپنے ساتھ گارڈز کی بھاری نفری لے کر پہنچ گیا اور سماء ٹی وی کی ٹیم کا کیمرا چھین لیا اور کوریج کیلئے آنیوالے سماء کے رپورٹر یوسف چیمہ ‘ کیمرہ مین قدیر رحمان اور ڈرائیور ارشاد کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔آفس اطلاع ملنے پر سماء کے مزید ورکر موقع پر پہنچے تو گارڈز کی بھاری نفری نے انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا اور مار مار کر ان کا بھی بھرکس نکال دیا۔واقعہ کا علم ہونے پر مزید صحافی اور میڈیا ورکرز وہاں پہنچے اور واقعہ کیخلاف یونیورسٹی گیٹ کے سامنے چوک میں احتجاج کرنے لگے تو یونیورسٹی گارڈز نے جامعہ کا مین گیٹ بند کر لیا اور یونیورسٹی کے اندر مورچہ بند ہو کر پتھراؤ شروع کر دیا ۔ گارڈز کے پتھراؤ سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی بڑی تعداد زخمی ہوگئی زخمی ہونیوالوں میں سماء کا رپورٹر مدثر نذیر‘ کیمرہ مین رضوان صابری‘ ورکرز حیدر علی‘ ندیم ‘ عامر‘ عمیر‘ اے آر وائی کا کیمرہ مین رانا منیر‘ ایکسپریس کا کمیرہ مین عثمان‘ میٹرو ون کا کیمرہ مین محمد جاوید‘ آج ٹی وی کا کیمرہ مین راحیل‘ نیو ٹی وی کا کیمرہ مین وقاص‘ اب تک کا ارسلان‘ ڈان نیوز کا کاشف‘ دنیا نیوز کا کیمرہ مین زبیر ‘ دنیا نیوز کا رپورٹر شہروز عباد شامل ہیں۔۔ یونیورسٹی کے ’’گلو بٹ‘‘ عملہ کی پرتشدد کارروائی کے دوران فیصل آباد پولیس کے شیر جوان بھیگی بلی بنے تماشہ دیکھتے اور ’’سرکاری گلو بٹوں‘‘ کی بے مثال کارروائی پر سر دھنتے رہے۔عینی شاہدین کے مطابق ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ’’سرکاری گلو بٹ‘‘ اپنا جاہ و جلال دکھاتے رہے۔ ایس ایچ او سول لائن محمد مکفور پولیس کی بھاری نفری سمیت موقع پر موجود رہے مگر گارڈز کو روکنے کی بجائے میڈیا ورکرز کو پکڑ پکڑ کر یونیورسٹی عملہ کے حوالے کرتے رہے۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید‘ سیکرٹری پریس کلب ساجد علی . صدر کیمرہ مین ایسوسی ایشن محمد عثمان اور صحافیوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی ۔ صحافی رات گئے تک اس واقعہ کیخلاف دھرنا دئیے بیٹھے رہے اور یونیورسٹی کے’’گلو بٹ ‘‘ عملہ‘ سکیورٹی انچارج ہارون ‘ انچارج پی آر پی ڈاکٹر جلال عارف ‘وی سی ڈاکٹر اقرار اور ان کے پالتو غنڈوں کے خلاف اندراج مقدمہ کا مطالبہ کرتے رہے تاہم پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا۔ صحافیوں نے واقعہ اور اندراج مقدمہ نہ کئے جانے کیخلاف بدھ 21جون کو آر پی او آفس کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

Related posts