سانحہ پارا چنار‘ حکومتی بے حسی کیخلاف متاثرین کا دھرنا


اسلام آباد(نیوزلائن) پارا چنار سانحہ میں شہید ہونیوالوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ابھی بھی متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ دہشت گردوں کی بیخ کنی‘ شہداء کو پرسا دینے اور زخمیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے حکومتی سطح پر مناسب اقدامات نہ ہونے کیخلاف پارا چنار سانحہ کے متاثرین دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق سانحہ پارا چنار کے حوالے سے حکومتی سطح پر مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کئے جانے کیخلاف متاثرین پانچ روز سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔دہشت گردی کی اس واردات میں فرقہ وارانہ تنظیموں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جبکہ متاثرین تو اسے کھلے عام فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دے رہے ہیں۔ سانحہ کیخلاف مجلس وحدت مسلمین پانچ روز سے دھرنا دئیے بیٹھی ہے۔ شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے عزیزواقارب کھلے آسمان تلے بیٹھے پانچ روز سے انصاف کی دہائی دے رہے ہیں مگر ارباب اقتدار پاکستان کے دوردراز علاقے میں احتجاج کرنے والے دہشت گردی کے متاثرہ پاکستانیوں کو پرسا دینے ابھی تک نہیں پہنچے۔پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم اپنے صوبہ میں بہاولپورکے مقام پر حادثہ کی اطلاع ملنے پر لندن سے بھاگم بھاگ واپس آگئے مگر عید کے موقع پر بھی پاراچنار کے متاثرین کو پرسا دینے نہ پہنچے۔ متاثرین اس حوالے سے بھی دکھی دکھائی دیتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کے حوالے سے بھی ان کے شدید تحفظات ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر بھی وہ سوال اٹھا رہے ہیں۔اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ اور بلا تفریق ملک بھر میں فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Related posts