سرکاری سرپرستی میں جعل سازی سے کروڑوں روپے کی اراضی پر قبضہ

14875400_1085135838207468_438806923_nفیصل آبادسے ندیم جاویدکی رپورٹ:پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پچاس کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اراضی پرایک بااثر گروپ نے سرکاری سرپرستی میں قبضہ کرلیا۔ اہل علاقہ قبضہ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے مزاحم ہونے لگے۔ شہر کے اہم ترین علاقے میں شدید کشیدگی اور کسی بھی وقت علاقے میں گھمسان کا رن پڑنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق مانچسٹر آف پاکستان کہلانے والے پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں ایک بااثر گروپ نے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور جعل سازی کرکے پچاس کروڑ روپے سے زائد مالیت کی قیمتی اراضی پر قبضہ کرلیا۔دستاویزات کے مطابق فیصل آباد موٹر وے انٹر چینج سے محض پانچ سو میٹر کے فاصلے پر بر لب سڑک 5چک کمال پور میں واقع قیمتی اراضی پر قبضے کیلئے اہم پولیس افسران‘ حکومتی ارکان اسمبلی اور کئی ایک کاروباری و سیاسی شخصیات کی پشت پناہی رکھنے والے ایک بااثر گروپ نے غفران اعجاز نامی شخص کے نام پر جعلی پاور آف اٹاری بنوایا اور بھاری تعداد میں مسلح افراد کی ہمراہی میں موقع پر چار سو دس مرلے اراضی پر قبضہ کرنے کیلئے آدھمکے۔ صورتحال کا علم ہونے پر اہل علاقہ نے قبضہ مافیا کے سامنے مزاحمت شروع کر دی جس پر قبضہ مافیا نے اپنے حمائتی پولیس افسران کی امداد حاصل کرلی اور مقامی پولیس کو اپنی حمائت کیلئے بلوا لیا۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی بنگلور روڈ کراچی کے رہائشی ایک شخص خرم مظہر کا نام ہے اور اس نے کسی کو فروخت نہیں کی۔ ریونیو افسران نے نیوز لائن کو بتایا کہ خرم مظہر نامی شخص نے ابھی تک یہ اراضی کسی کو فروخت نہیں کی۔ قبضہ گروپ جو دستاویزات استعمال کر رہا ہے وہ قطعی طور پر جعلی اور بوگس ہیں۔قبضہ مافیا نے علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد جمع کر رکھی ہے جبکہ دوسری جانب اہل علاقہ بھی اراضی پر مافیا کا قبضہ برداشت کرنے کو تیار نہیں اور علاقے میں شدید کشیدگی ہے۔ صورتحال کسی بھی وقت خراب ہونے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ضلعی انتظامیہ‘ اعلیٰ پولیس حکام اور ریونیو افسران صورتحال کا علم ہونے کے باوجود بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہے۔

Related posts