سرگودھا یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپس: ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک

uos-logoیونیورسٹیاں علم و آگہی پھیلانے کا مرکز ہوتی ہیں مگر جب جامعات کے کرتا دھرتا ہی نوٹ کمانے اور علم بیچنے پر آ جائیں تو پھر اس ملک کا مستقبل داؤ پر لگ جا تا ہے۔ ایسا ہی کچھ یونیورسٹی آف سرگودھا نے کیا ہے اس بارے ندیم جاوید اپنی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشافات کر رہے ہیںیونیورسٹی آف سرگودھا نے کمائی کے لالچ میں تعلیم کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سرمایہ داروں کیساتھ مل کر ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک کر دیا۔یو او ایس نے مختلف شہروں میں سات کیمپس قائم کر رکھے ہیں ان میں سے اکثریتی کیمپس پرائیویٹ افراد کیسا تھ مل کر بنائے گئے ہیں۔یو او ایس نے پرائیویٹ سب کیمپس کی لوٹ سیل سب سے زیادہ فیصل آباد میں لگائے جہاں یونیورسٹی آف سرگودھا کے تین غیرقانونی پرائیویٹ کیمپس ہیں۔فیصل آباد کیمپس‘ لائیلپور کیمپس‘ ویمن کیمپس فیصل آباد کے علاوہ بھکر‘ میانوالی کے کیمپس بھی غیرقانونی ہیں۔ بنائے تو منڈی بہاؤالدین اور لاہور کے کیمپس بھی غیرقانونی گئے تھے مگر بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ نے تگ و دو کر کے اور نجی کیمپسوں کی انتظامیہ نے تگڑی سفارشیں لڑا کر لاہور اور منڈی بہاؤالدین کے کیمپسوں کو ایچ ای سی سے منظور کروا لیا۔تاہم فیصل آباد کیمپس‘ لائیلپور کیمپس‘ ویمن کیمپس فیصل آباد‘ بھکر‘ میانوالی کے کیمپسکئی سالوں سے طلبہ کے داخلے کررہے ہیں اور یونیورسٹی انکار اور انتباہی نوٹس جاری کرنے کے باوجود ان طلباء و طالبات کے امتحانات بھی لے لیتی ہے۔ مگر اس کے باوجوخود د سرگودھا یونیورسٹی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن مسلسل یونیورسٹی آف سرگودھا کے فیصل آباد کیمپس‘ لائیلپور کیمپس‘ ویمن کیمپس فیصل آباد‘ بھکرکیمپس‘ میانوالی کیمپس کو غیرقانونی قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود نجی کیمپسوں کی انتظامیہ کو طلبہ کے داخلے کرنے سے روکا جا رہا ہے اور نہ ان کے خلاف قانون متحرک کیا جا رہا ہے۔جس سے ان غیرقانونی کیمپسوں میں داخلے لینے کا مستقبل تاریک ہے اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود طلبہ کو”اصلی“ڈگری ملنے کی امید نہیں ہے۔اس حوالے سے یونیورسٹی کے طلبہ‘ انکے والدین اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو یونیورسٹی آف سرگودھا کے ذمہ داران طلباء و طالبات کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملکی قوانین سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ منظوری کے بغیر یونیورسٹی کیمپس کا قیام ہی نہیں ہونا چاہئے تھا چہ جائیکہ یونیورسٹی حکام اور کیمپس انتظامیہ مل کر ایچ ای سی کو دھوکہ دے رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔اس صورتحال بارے مؤقف لینے کیلئے یونیورسٹی آف سرگودھا کے ویمن اور فیصل آباد کیمپس کے سی ای او عزیز الرحمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی تک ان کے کیمپس ایچ ای سی منظور نہیں ہو سکے۔ منظوری کے بغیر داخلوں کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سبھی ایسا کر رہے ہیں ایسے میں ہم نے کر لیا تو کیا برائی ہے۔ہماری یونیورسٹی انتظامیہ کیساتھ انڈرسٹینڈنگ ہے وہ ہمارے امتحانات لے رہے ہیں ڈگری بھی جاری کریں گے کسی کو اس بارے ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔

Related posts