سپریم کورٹ نے مردم شماری کیلیے 2 ہفتے میں شیڈول طلب کرلیا

630117-supremecourt-1476803487-562-640x480عدالت عظمٰی نے مردم شماری میں تاخیر سے متعلق حكومتی رپورٹ پر عدم اطمینان كا اظہار كرتے ہوئے 2 ہفتے میں واضح تاریخ اور ٹائم شیڈول طلب کرلیا۔
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی كی سربراہی میں 3 ركنی بینچ نے 2 ہفتے كے اندر مردم شماری كے لیے واضح تاریخ اور ٹائم شیڈول طلب كرتے ہوئے كہا ہے كہ عدالت كو اپنا بھرم چاہیے ورنہ ایك دن لوگ كہیں گے كہ عدالتیں زبانی جمع خرچ كرتی ہیں عملی كارروائی نہیں كرتیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریماركس دیئے کہ تاخیر سے عدالت كو نہیں قوم اور جمہوری نظام كو فرق پڑتا ہے، عدالت كو بروقت مردم شماری چاہیے دو ٹرك كاغذ نہیں، مردم شماری آئینی تقاضہ اور حكومت كی ذمہ داری ہے، حكومت اپنی ذمہ داری پوری كیوں نہیں كرتی۔
چیف جسٹس نے كہا کہ قانونی طور پر مردم شماری فوج كی نگرانی میں كرانے كی ضرورت نہیں، بروقت مردم شماری نہیں ہو گی تو 2018 كے عام انتخابات كیسے ہوں گے۔ سماعت میں اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف نے پیش ہوكر مؤقف اختیار كیا كہ آئندہ سال مارچ، اپریل میں مردم شماری کے لیے فوج دستیاب ہوگی اور میں یقین دلاتا ہوں كہ آئندہ سال اپریل تك مردم شماری مكمل كرلی جائے گی۔ انہوں نے كہا وہ ذاتی طور پر اس معاملے كو دیكھ رہے ہیں اور موجودہ حكومت مردم شماری میں تاخیر كی ذمہ دار نہیں، لاجسٹك اور سیكیورٹی سمیت بہت سارے مسائل تاخیر كا سبب بنے ہیں۔ چیف جسٹس نے كہا اس تاخیر سے ہمیں كوئی فرق نہیں پڑتا اس سے عوام اور جمہوری نظام كو فرق پڑتا ہے، مردم شماری نہ ہو تو آئندہ انتخابات كیسے ہوں گے۔

Related posts

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.