سچ کیلئے کون آواز اٹھائے:صحافتی تنظیموں کو سانپ سونگھ گیا

اسلام آباد(نیوزلائن)لاہور سے پراسرار طور پر غائب ہونے والی خاتون صحافی کیلئے کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔ صحافتی تنظیمیں ”تم ڈھونڈو۔۔تم ڈھونڈو“ کے نعرے لگانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔معاملے میں بااثر حلقوں کے ملوث ہونے کی بناء پر کوئی تنظیم اس معاملے میں پڑنے اور ایک صحافی کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔نیوزلائن کے مطابق پاکستان میں پہلی بار ایک خاتون صحافی کے اغواء یا دوسرے لفظوں میں پراسرار گرفتاری کا واقعہ سامنے آیاہے۔ لاہور کے اخبار نئی خبر اورمیٹرو نیوز سے وابستہ خاتون صحافی زینت شہزادی کو پندرہ اگست سال 2015کوشہر کی مصروف ترین سڑک پر راہ چلتے اغواء کیا گیااور بیس ماہ گزرنے کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ اس کے غریب گھر والے کچھ کر سکے اور نہ ہی اس کے اخبار نے اس کیلئے کوئی آواز اٹھائی۔کسی صحافتی تنظیم نے خاتون صحافی کی بازیابی کیلئے ابھی تک کوئی کردار ادا کیا ہے۔ورکر سحافیوں کا کہنا ہے کہ اخباری مالکان اور ٹی وی مالکان کے مفادات کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جانے والی پی ایف یو جیز اور دیگر صحافتی تنظیمیں ایک ورکر کی گمشدگی پر کیوں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔بیس ماہ ہو چکے ہیں اور ابھی تک پی ایف یو جے ”لاہور“ کے صدر رانا عظیم اور نہ ہی پی ایف یو جے ”اسلام آباد“ کے صدر افضل بٹ ایک ”غریب“ خاتون صحافی کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات تو بہت دور کی بات آواز تک بلند کرنے کی ہمت نہیں کرسکے۔

Related posts