سکیورٹی خدشات پر رینجرز کوعدالت میں تعینات کیا ،آئی ایس پی آر


راولپنڈی(نیوزلائن)ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں، 4 دہائیوں سے افغان جنگ جاری ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، اب پُرامن پاکستان نظر آ رہا ہے، پاکستان میں کسی دہشتگرد تنظیم کا منظم ٹھکانہ موجود نہیں ہے، افغانستان کا 50 فیصد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے، مغربی سرحد پر فوج کی تعیناتی دہشتگردوں کیلئے کی گئی۔ میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ بھارت کی شرانگیزی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، آرمی چیف جلد ایران کا دورہ کریں گے، کراچی میں محرم میں خودکش حملوں کی اطلاعات تھیں، بروقت کارروائی کر کے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، میران شاہ میں تاریخ کا پہلا کرکٹ میچ ہوا، آنے والے چند دنوں میں ہاکی کا میچ کراچی میں ہو گا، راجگال میں خیبر فور کامیابی سے جاری ہے، قوم کو اس پر فخر ہونا چاہئے۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ فوج، رینجرز، انٹیلی جنس اور پولیس نے بہادری سے کام کیا، کیا دنیا کے کسی ملک کو دہشتگردی کے اتنے خطرات تھے؟ اداروں کا مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے، 15 سال میں پاکستانی عوام اور افواج نے بہت قربانیاں دیں، جب پوری دنیا کام خراب رکھنے میں لگی ہو تو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، 15 سال محنت کی، نتائج آنے میں وقت لگے گا، ہم نے ملک کو استحکام کی طرف لے کر جانا ہے، بیرونی ایجنڈا تسلیم کر لیا تو ہم بہت پیچھے چلے جائیں گے، 4 دشمن ایجنسیاں دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہی ہیں، دفتر خارجہ سے تھریٹ لیٹر شیئر کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہم نے ملک کو استحکام کی طرف لیکر جانا ہے، آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے قوم کو الرٹ کر رہے ہیں؟ رینجرز کے 3 ونگز کو آئینی طور پر درخواست کی گئی، ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو، سکیورٹی خدشات کے باعث رینجرز کو احتساب عدالت میں تعینات کیا گیا تھا، سیاست میں فوج کی مداخلت کی باتیں بے بنیاد ہیں، مارشل لاء کا تاثر بالکل غلط ہے، آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے فوج کو حکم ملتا ہے اور فوج کا پہلا کام ملک کی حفاظت ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ کلبھوشن کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس آئی ہے، اس کے متعلق جلد خبر دیں گے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کیوں نہیں ہوا؟ میجر جنرل آصف غفور نے جواب دیا، خاموشی بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی سمیت کوئی ادارہ پاکستان سے بالاتر نہیں، سکیورٹی قوانین کے تحت سپیشل کارڈ کے بغیر آرمی چیف کو بھی سپاہی نہیں جانے دے گا۔ ترجمان پاک فوج نے اعلان کیا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، آدھا افغانستان حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، بھارت سرحدی جارحیت سے باز نہ آیا تو قیمت چکانا پڑے گی۔ صحافی نے سوال کیا کہ نواز شریف نے سقوط ڈھاکہ کی یاد دلائی، جنرل آصف غفور بولے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پھر پیچھے ہی دیکھتے رہیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، جو غلطی ہوئی تھی، اسے درست کر لیا گیا ہے۔

Related posts

Leave a Comment