سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل کام نہیں‎

cigritesمختلف ادوار میں سینکڑوں سروے کئے گئے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ سگریٹ پینا اپنی زندگی کو ختم کرنا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ نشہ آور چیزیں زندگی کو ختم کرتی ہیں۔ اتنی ساری معلومات کے ہوتے ہوئے بھی نا تو نشہ آور چیزیں بننا بند ہوئیں اور نا ہی استعمال کرنے والے رک سکے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان چیزوں کا استعمال بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے؟حکومتی ادارے بے بس ہیں، حالانکہ نشہ آور چیزوں کے خلاف قانون موجود ہیں لیکن اس پر عملدرآمد کون کروائے؟ قانون تو اپنی جگہ قانون بنانے والے ہی خود سگریٹ نوشی اور مختلف نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال ہمیں کچھ مزید سوچنا ہوگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سلسلہ آخر کیوں نہیں رک پا رہا؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہر خاص و عام کو بخوبی علم ہے کہ سگریٹ نوشی سے پھیپڑوں اور منہ کا سرطان، کھانسی اور جلد کے امراض اور تو اور اس سے انسان بینائی سے محروم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی سگریٹ نوشی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا استعمال اب تو ایک فیشن بن گیا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے بیشتر لوگوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ تمباکو پھونکتے وقت وہ بہت سمارٹ اور مفکر لگتے ہیں، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ نشہ آور اشیاء اپنا عادی بنا دیتی ہیں۔ تمباکو بھی نشہ آور اشیاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی مضر صحت ہے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ پوری دنیا میں اس کا استعمال ہوتا ہے، چاہے وہ سگریٹ نوشی ہو، سگار یا شیشہ۔ ہمارے معاشرے میں سگریٹ نوسی کو فیشن حیثیت حاصل ہے۔
بڑے لوگ بڑی مہنگی برانڈ پی کے اپنے اردگرد کے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ عام آدمی اپنے غم بھلانے کی خاطر اسے استعمال کرتے ہیں اور تو اور نوجوان سگریٹ نوشی کو جوانی کا لائسنس سمجھتے ہیں۔ لوگ یہ باور کراتے ہیں کہ سگریٹ نوشی سے سوچ بچار کرنے میں مدد ملتی ہے جو سراسر غلط فہمی ہے۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین کی وجہ سے سگریٹ نوشی کرنے والے حضرات اپنی عمر سے پہلے اپنی زندگی کو لقمہ اجل بنا دیتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد جب بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تب ہی ان کو اس لعنت کا احساس ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی کرکے انہوں نے نا صرف اپنا پر اپنے اہل خانہ کا بڑا نقصان کیا ہے۔ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پانے کے لیے چند ہدایات ان پر عمل کرکے سگریٹ نوشی سے بچا جا سکتا ہے۔
مضبوط ارادہ: یہ وہ صلاحیت ہے جس سے بڑے بڑے فیصلے اور کارنامے سرانجام ہوتے ہیں۔ اگر ارادہ مضبوط ہے تو سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل کام نہیں، دوسرا یہ کہ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ نوشی کر کے یہ سمجھنا کہ اس سے ہاضمہ درست ہو جائے گا، سراسر غلط ہے۔ اس کے لئے خود کو مضبوط رکھیں اور ہرگز سگریٹ نوشی کی طرف مائل نہ ہوں۔ سگریٹ نوشی کی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں۔ اپنی زندگی کو رنگین بنائیں روزمرہ کی روٹین میں ورزش کو لازمی حصہ بنا لیں۔ سبزیوں اور تازہ پھلوں کے استعمال کو معمول بنائیں۔ سگریٹ نوشی کی جگہ کسی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال نہ کریں

Related posts