سیون نیوز کے مالکان کاصحافیوں پر تشدد‘ احتجاج کیلئے کوئی آواز بلند نہ ہوئی

لاہور(ایم ایس ٹیپو)سیون نیوز کے مالکان نے گارڈز کے ذریعے میڈیا ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالامگر اس پر کسی ملکی و انٹرنیشنل تنظیم نے کسی قسم کا احتجاج نہ کیا اورنہ ورکر دشمن مالکان کے خلاف آواز بلند کی۔اپنے درپردہ مقاصد کیلئے میڈیا کی فیلڈ میں آنیوالے سیون نیوز کے مالکان پنے ورکرز کا مسلسل استحصال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے چیئرمین عمر نذر شاہ نے سیون نیوز کے نام سے اپنا چینل لانچ کیا تو ان کی طرف سے بلند بانگ دعوے کئے گئے مگر ابتدا کئی چند ماہ بعد ہی ان کے حوالے سے تنخواہیں نہ دینے‘ ورکرز کاا ستحصال کرنے ‘بلاوجہ چھانٹیاں کرنے اور درجنوں ورکرز کو بغیر نوٹس اور ادائیگیوں کے فارغ کرنے کے اقدامات سامنے آنے لگے۔اسلام آباد اور فیصل آباد میں انہوں نے بغیر کسی وجہ کے صرف اپنی ذاتی اناء کی تسکین کیلئے پورا بیورو فارغ کردیا مگر کوئی احتجاجی آواز بلند نہ ہوئی۔لاہور میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کی گئیں ستم بالائے ستم یہ کہ فارغ کئے گئے ورکرز کی تنخواہیں کئی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرے کی بابرکت ساعتوں میں چینل مالکان اور انتظامیہ نے ظلم کی تمام حدیں پھلانگ لیں ۔ ڈیڑھ سو سے زائد ورکرز کو آفس میں قید کر لیا۔ متعدد کو گارڈز مافیا کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا۔ کئی گھنٹے تک ورکرز کو حبس بے جا میں قید رکھا۔چینل مالکان کی قید میں بند اپنے ورکر ساتھیوں کو آزاد کروانے کیلئے آنیوالے لاہور کے سینئر صحافی اور سابق صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری‘ صدر پنجاب یونین آف جرنلسٹس فہیم گوہر بٹ‘اور درجن بھر دیگر صحافیوں کو بھی چینل مالکان اور انتظامیہ نے قید کر لیا۔پولیس کو بلا کر صحافیوں نے مالکان کی قید سے نجات حاصل کی۔سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزوں کے انتہائی اقدام کے خلاف اور اپنے ورکر ساتھیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نیوز پیپر ایمپلائز یونین سمیت کسی صحافتی تنظیم ‘ انسانی حقوق کی تنظیموں ‘ سول سوسائٹی نے آواز بلند کرنے کی زحمت کی۔ استحصال اور مالکان کی حبس بے جا میں کئی گھنٹے گزارنے والے ورکرز اس حوالے سے ملک بھر کی میڈیا ورکرز کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے سوال کر رہے ہیں کہ ان سے انسان ہونے کا حق بھی چھیننے والے ہاتھ کیا اتنے مضبوط ہی مضبوط ہیں کہ ان کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کر رہا۔

Related posts