سیون نیوز کے مالکان کا گارڈز کے ذریعے صحافیوں پر تشدد‘ کئی گھنٹے قید کئے رکھا

لاہور(ایم ایس ٹیپو)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بعد میڈیا ورکرز کو سیون نیوزکے گارڈز نے چینل مالکان کے حکم پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ گارڈز مافیا نے مالکان کا ’’حکم‘‘ ملتے ہی صحافیوں کو آڑے ہاتھون لیا اور مار مار کر بھرکس نکال دیا۔ تشدد سے آٹھ ورکر زخمی ہوئے۔ تشدد کے بعد سیون نیوز کے ہیڈ آفس کے دو شفٹوں کے ڈیڑھ سو سے زائد ورکرز کو دفاتر کو تالے لگا کر قید کر لیا گیا۔ معاملے کا علم ہونے پر شہر بھر سے صحافیوں کی بڑی تعداد سیون نیوز کے آفس پہنچ گئی۔اور پولیس کی مدد سے اپنے ساتھی ورکرز کو سیون نیوز کے مالکان کی قید سے آزاد کروایا۔نیوزلائن کے مطابق سیون نیوز کے ہیڈ آفس لاہور میں بدھ کی شام دو ماہ سے زائد کی تنخواہیں نے ملنے پر ورکرز نے احتجاج کیا اور کام بند کر دیاجس پر چینل مینجمنٹ مشتعل ہو گئی اور آفس کے تمام دروازوں کو تالے ڈلواکر ہیڈ آفس میں موجود ڈیڑھ سو سے زائد ورکرز کو قید کر لیا اور سب کے باہر جانے پر پابندی عائد کردی۔ آفس کو ہی سب جیل بنا کر ورکرز کو قیدکر نے پر صحافیوں نے شور کیا تو چینل مینجمنٹ کے حکم پر گارڈز نے صحافیوں اور دیگر ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔تشدد سے آٹھ ورکرز زخمی بھی ہوئے جنہیں مینجمنٹ نے طبی امداد کیلئے باہر لے جانے کی بھی اجازت نہ دی۔واقعہ کا علم ہونے سابق صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ‘ صدر پنجاب یونین آف جرنلسٹس فہیم گوہر بٹ اور سابق جنرل سیکرٹری پنجاب یونین آف جرنلسٹس نعیم حنیف کی قیادت میں صحافی سیون نیوز کے آفس پہنچے تو چینل مینجمنٹ نے انہیں بھی قید کر لیا جس پر صحافیوں نے مینجمنٹ کیخلاف احتجاج شروع کر دیا اور پولیس کی مدد طلب کر لی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر سیون نیوز کے ورکرز کو چینل مالکان اور مینجمنٹ کی قید سے رہائی دلوائی۔سیون نیوز کے ڈیڑھ سے زائد ورکرز کو کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے ‘ انہیں گارڈز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے پر سیون نیوز کے مالکان‘ ایم ڈی مشتاق‘ ڈائریکٹر نیوز نعیم الیاس اور دیگر انتظامی افسران کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے تھانہ گلبرگ لاہور میں درخواست دیدی گئی ہے۔پولیس اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔

Related posts