سی پیک سے پاکستان تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا، نواز شریف


nawaz-raheelسی پیک سے پاکستان تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا، سی پیک چینی صدر شی جن پنگ کے ’ایک خطہ ایک سڑک‘ وژن کا عکاس ہے۔
ان خیالات کا اظہار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کیا۔ انہون نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت گوادر کی بندرگاہ سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔
گوادر بندر گاہ سے سی پیک کے تحت پہلے تجارتی قافلے کو روانہ کرنے سے قبل پر وقار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ پنجاب نواب ثناء اللہ زہری اور مختلف ممالک کے سفراء بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ 100 سے زائد مال بردار ٹرکس کا قافلہ 29 اکتوبر کو چین کے شہر کاشغر سے روانہ ہوا تھا،30 اکتوبر کو پاکستان میں داخل ہوا اور سوست ڈرائی پورٹ پہنچا تھا جس کے بعد 12 نومبر کو یہ قافلہ گوادر پہنچا۔
افتتاحی تقریب میں اس قافلے کے تاریخی سفر کی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور چین کے درمیان اہم تجارتی مرکز بنے گا، آج ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، سی پیک سے پاکستان اور عوام کو ترقی ملے گی‘۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سی پیک کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور یہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ پاک بحریہ کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں،پروجیکٹ کے دوران جانوں کا نذرانہ دینے والے ایف ڈبلیو او شہیدوں کوسلام پیش کرتا ہوں‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گوادر میں آزاد تجارتی زون کےلئے زمین مختص کردی گئی ہےجبکہ منصوبوں کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لینے پر انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل کا بھی شکریہ ادا کیا۔
تقریب سے خطاب میں چینی سفیر سن وی ڈونگ نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے لیے حکومت اور فوج کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ پہلاموقع ہے کہ تجارتی قافلہ پاکستان کے مغربی حصےسےداخل ہوا، سی پیک کے تحت پہلے پائلٹ پروجیکٹ کے افتتاح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،آج کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پائلٹ پروجیکٹ کے لیےایف ڈبلیو او کا کردارنمایاں رہا، گوادر پورٹ کی تکمیل سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا، گوادر پورٹ پر تجارتی سامان کی نقل و حمل کو مزید بہتر بنایا گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج سی پیک کا پہلا تجارتی قافلہ کامیابی سے روانہ ہورہا ہے، آج پہلی بارگوادر پورٹ سے کنٹینرزروانہ کیے جائیں گے‘۔
یاد رہے کہ سخت سیکیورٹی میں چین سے سیکڑوں ٹرکس پر مشتمل قافلہ گوادر پہنچا جہاں ان ٹرکس پر لدے کنٹینرز کو گوادر بندر گاہ پر لنگر انداز 2 بحری جہازوں میں منتقل کیا جائے گا اور پھر انہیں مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک بھیج دیا جائے گا۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کے مطابق دو بحری جہاز الحسین زنزیبار اور کوسکو ویلنگٹن بنگلہ دیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کا سفر کریں گے جس کے بعد وہ یورپی یونین کی جانب جائیں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ چین سے بڑا تجارتی قافلہ گوادر پہچ گیا ہے جہاں سے سامان کو جہازوں پر منتقل کیا جائے گا۔
گوادر پورٹ کے ذریعے پہلی بار چینی مصنوعات مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کو برآمد کیے جائیں گے جبکہ کنٹینر پر چاولسے لے کر کپاس تک مختلف اشیاء موجود ہیں جبکہ بعض مشینری بھی ہے جو گوادار میں جاری ترقیاتی کاموں کے لیے وہاں پہنچائی گئی۔

Related posts