شریف فیملی میں پھوٹ پڑ گئی‘ پارٹی پر قبضے کی جنگ شروع

اسلام آباد(نیوزلائن)پانامہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آتے ہی شریف فیملی کے اختلافات کھلنے لگے ہیں ۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف اور انکی فیملیز آمنے سامنے آگئی ہیں۔دونوں کے مابین پارٹی پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی ہے ۔اوپر سے نیچے تک پارٹی رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے اندرون خانہ کوششیں اور لابنگ کو تیز کر دیا گیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق شریف فیملی کے مابین اختلافات کافی عرصے سے سامنے آرہے تھے تاہم میاں نواز شریف فیملی کے بڑے ہونے کے ناطے معاملات سنبھال رہے تھے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔پانامہ کیس کے اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھی خاص طور پر چوہدری نثار و دیگر میاں نواز شریف سے دور دور ہی رہے۔ چوہدری نثار نے تو میاں نواز شریف کو صاف انکارکر دیا کہ ایف آئی اے کو ان کے حق میں استعمال نہیں کریں گے اور میاں نواز شریف اپنا کیس خود لڑیں۔میاں شہباز شریف کے حوالے سے بھی رپورٹ سامنے آئی کہ پانامہ کیس کی بنیاد بننے والی دستاویزات میاں شہباز شریف نے فراہم کی تھیں۔جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران میاں نواز شریف کی فیملی اور میاں شہباز شریف کی فیملی کے مابین اندرون خانہ جھگڑے ہونے اور ایک دوسرے کو طعن تشنیع کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل طور پر میاں نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف آنے پر ایک طرف تو ن لیگ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے مگر میاں شہباز شریف کے کیمپ میں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار مکمل خاموش ہیں اور خاموشی کیساتھ پارٹی پر قبضے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔میاں شہباز شریف کے کیمپ میں سے صرف رانا ثناء اللہ کے میاں نواز شریف کے حق میں بیانات سامنے آرہے ہیں۔ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف ملک بھر میں اپنے حامی لیگی رہنماؤں کو خفیہ طور پر اپنے ساتھ ملانے میں سرگرم ہیں اور ن لیگ میں واضح نظر آنے والی شہباز ‘ نواز تقسیم اب حتمی ہونے جا رہی ہے۔ پارٹی پر قبضے کیلئے دونوں ہی سرگرم ہیں ۔ ایک طرف مریم نواز کوشش میں لگی ہوئی ہیں تو دوسری جانب حمزہ شہباز پلاننگ میں مگن ہیں۔پارٹی میں اپنے ہم خیالوں کو اکٹھا کرنے کیلئے دونوں لابنگ کر رہے ہیں۔ پانامہ کیس آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ن لیگ کی تقسیم ہوگی‘ شریف فیملی کی پھوٹ واضح ہوتی جائے گی اور پارٹی پر قبضے کی کوششیں اور لابنگ تیز تر ہوگی جبکہ بہت سے پنچھی محفوظ مستقبل کیلئے اڑانیں بھر لیں گے

Related posts

Leave a Comment