شکریہ راحیل شریف

سیاست دانوں،ماتحتوں اور خوشامد پسندوں کی تمام ترغیبات اور اشتعال انگیزیوں کے باوجود جنرل راحیل شریف اپنے دونوں پیش رئوں کے برعکس اپنی مدت پوری کرنے کے بعد گھر چلے گئے ۔ان سے پہلے دونوں جنرل مجموعی طور پر سولہ سال کا عرصہ گزارچکے تھے مگرجنرل راحیل شریف نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع نہ لی۔سیاست دانوں اور میڈیا کی پھیلائی ہوئی کنفیوژن اور مفاہمت کے نام پر اپنائی ہوئی بزدلی کو ایک طرف رکھتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے پاکستانی طالبان، لشکر ِ جھنگوی اور ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کو نہ چھوڑا۔ان کے پیش روانہی دہشت گردوں کو اپنے اثاثے سمجھتے رہے۔اس پر بھی ہم جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ سنجیدہ تعاون کا مظاہرہ کیا اور افغان طالبان کو میز پر لانے کی کوشش کی۔ تاہم انہیں افغانستان اور پا کستان کی خفیہ تنظیموں کے کچھ عناصر نے کامیاب نہ ہونے دیا۔اب جبکہ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی تونہ صرف افغان طالبان کی اپنی صفوں میں طاقت کی جنگ شروع ہوچکی ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔
جنرل راحیل شریف کی انڈیا کے حوالے سے پالیسی روایتی پیمانوں کے مطابق ہی رہی کہ جس چیز میںانڈیا کو فائدہ ہوگا وہ پاکستان کیلئے نقصان دہ ہوگی۔دوسری طرف نوازشریف اس صورتحال کو معاشی ترقی کے پسِ منظر میں دیکھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ امن اور استحکام جنوبی ایشیا کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب بھی نوازشریف نے انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کی کوشش کی تو میڈیا اور جہادی عناصر ان پر برس پڑے۔ آج کل انڈیاکی جارحانہ دفاع کی پالیسی پورے عروج پرہے۔اس نے لائن آف کنٹرول اور بلوچستان پرپورا دباؤ ڈال رکھا ہے۔
جنرل راحیل شریف کو’’فوجیوں کا فوجی‘‘ قرار دیا گیا۔کہا گیا کہ وہ سیاسی میدان میں قدم رکھنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے دور میں بھی فوج کے پی ایم ایل (ن)سے تعلقات اتنے ہی خراب رہے جتنے جنرل کیانی دور میں فوج کے زرداری حکومت کے ساتھ۔در حقیقت بہت سی سیاسی سازشیں ابھرتی دکھائی دیں اور ان کے پیچھے کوئی نادیدہ ہاتھ کارفرما ہونے کا تاثر گہرا رہا۔عمران خان اور ڈاکٹر قادری کے دھرنوں میں مداخلت کے خدشے کی باتیں ہوتی رہیں۔اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ سیاسی بدعنوانی کی طرف مڑ گئی۔اس سے یہ تاثر ابھرا کہ فوج اسلام آباد میں نوازشریف اور سندھ میں زرداری کے تعاقب میں ہے۔ جنرل شریف کے میڈیا کے ساتھ معاملات بھی مسائل کا شکار رہے ۔ 2014-15ءمیں انٹیلی جنس ایجنسیاں میڈیا ہائوسز کا تعاقب کرتی دکھائی دیں تو 2016 میں ٹوئٹ پیغامات مخصوص اینکرز اورصحافیوں کے تعاقب میں رہے ۔ کچھ کی حب الوطنی پر بھی شبہ کیا گیا۔جب اسکا خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا تو ایک دو اینکرز کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ بارگاہ ِ رب العزت سے خصوصی دعائیں کریں کہ جنر ل راحیل شریف کے دل میں رحم آجائے وہ قوم کو اپنی خدمات سے محروم نہ کریں۔ اس دوران جنرل صاحب اخبارات کے صفحات اور ٹی وی کی نشریات پر چھائے رہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف بہت کھرے اور پرعزم انسان تھے ۔ اُن کے مقاصد مخلص اور پیشہ ورانہ تھے ۔ انھوںنے کبھی بھی اقتدار پر قبضہ کرنے کانہ سوچا۔ اس پر ہم اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اُنہیں بہت سی ترغیبات دی گئیں، مخصوص حلقوں کی جانب سے اشتعال انگیزی جاری رہی لیکن خدا کا شکرہے کہ وہ اپنا دامن بچا کر گھر چلے گئے ۔ جنرل باجوہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف کے اچھے کاموں کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ اُن کی وراثت کا تحفظ کریں۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے ۔ کابل کو انڈیاکے اثر سے نکال کر اپنے ساتھ کیا جائے ۔ اس دوران یہ بھی ضروری ہے کہ سیاست دانوں کی بدعنوانی اور دہشت گردی کو نتھی کرکے ابہام نہ پیدا کیا جائے ۔ جنرل راحیل شریف خود میڈیا کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن انتہائی فعال آئی ایس پی آر کو قدرے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔
فوج کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی پروفائل کو بہت زیادہ عوامی نہ بنائے ۔ پاکستان ایک پیچیدہ ملک ہے ۔ یہاں افواہیں تیزی سے سفر کرتی ہیں، اور ہم فوجی مداخلت کی طویل تاریخ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اچھے اور برے طالبان اور، اچھے اور برے مسلمان کی کنفیوژن سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں انڈیا کے بارے میں عملیت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ نواز شریف کو بھی جاننا چاہئے کہ کوئی آرمی چیف بھی وزیر اعظم کا’’یس مین‘‘ نہیں ہوسکتا۔ ہم بہت سے سبق سیکھ چکے ہیں، چنانچہ ایک مرتبہ پھر ہم جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

نجم سیٹھی

Related posts