شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل رابطے: نوازشریف ناراض


اسلام آباد(احمد یٰسین)مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل رابطے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ میاں شہباز شریف کے ان رابطوں پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف شدید ناراض ہیں اور وہ شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کی سیاست چھوڑنے پر زور دے رہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ختم نہیں ہوسکے۔ وہ مسلسل رابطہ رکھے ہوئے اور پر معاملے پر اسٹیبلشمنٹ کی لائن کے مطابق چلتے ہیں۔ میاں نوازشریف کی وطن واپسی پر بھی انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی لائن کے مطابق ہی واجبی احتجاج ہی کیا اور معاملے کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں جانے دیا جبکہ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ میاں شہباز شریف کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ شہباز شریف کے برعکس سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر کھڑے ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کی لائن پکڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ باہمی روابط مکمل طور پر ختم کرے اور اسٹیبلشمنٹ کی بجائے انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف اپنے بھائی کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطوں ان سے شدید ناراض ہیں جبکہ مستقبل کے حوالے سے مشاورت میں بھی وہ شہباز شریف کی بجائے مریم نواز ‘ پرویز رشید اور چند دیگر قریبی ساتھیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیل میں عدالت میں ملاقاتوں کے دوران وہ اپنے ان ساتھیوں کیساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کرتے ہیں جبکہ شہباز شریف کے حوالے سے رپورٹ بھی لیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر داخلہ کی الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا آپشن بھی شہباز شریف نے میاں نوازشریف کے سامنے رکھا تھا مگر سابق وزیر اعظم نے اسے یکسر مسترد کردیا۔ذرائع کے مطابق الیکشن نتائج سامنے آنے پر میاں شہباز شریف پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کے خواہاں تھے اور آزاد ارکان کو ساتھ ملانے کیلئے سرگرم ہوئے تھے ۔ اس کیلئے چند شرائط کیساتھ مقتدر حلقے بھی آمادہ تھے ۔ پنجاب میں حکومت سازی کی ان شرائط کے حوالے سے ہی شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں خفیہ ملاقات کرکے میاں نوازشریف کے ساتھ مشاورت کی تھی۔اور تمام شرائط ان کے سامنے رکھ دی تھیں مگر میاں نواز شریف نے پنجاب میں بھی حکومت بنانے کا آپشن ختم کردیا اور آزاد ارکان کو ساتھ ملانے کی کوششیں بند کرنے اور مقتدر قوتوں کی شرائط کسی طور تسلیم نہ کرنے کی ہدائت کردی تھی۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف اپوزیشن پارٹیوں ‘ خاص طور پر پی پی پی کیساتھ چلنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چلنا چاہتے ہیں جبکہ میاں نواز شریف انہیں ہر صورت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی ہدائت کررہے ہیں اور اس موقع پر سابق صدر مملکت آصف زرداری سمیت کسی کیساتھ بگاڑ پیدا نہ کرنے کی ہدائت کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطوں پر میاں نوازشریف شدید نالاں ہیں اور مقتدر قوتوں کیساتھ رابطے ختم کرکے انہیں سخت پیغام دینے کی مسلسل ہدائت کررہے ہیں جسے شہبازشریف تسلیم نہیں کررہے۔ شہباز شریف مقتدر قوتوں کو میٹھے میٹھے پیغام بھجوارہے ہیں کہ انہیں چھیڑا نہ جائے ورنہ وہ بھائی کی راہ پر چل سکتے ہیں ۔ دوسری جانب شہباز شریف بھائی کو چھوڑنا بھی نہیں مگر مکمل طور پر بھائی کی راہ اپنانے کی طرف بھی نہیں جارہے۔

Related posts